امتیاز عباسی نے پاکستان کی سب سے بڑی سپر اسٹور ایمپائر کیسے بنائی؟


امتیاز عباسی نے پاکستان کی سب سے بڑی سپر اسٹور ایمپائر کیسے بنائی؟

امتیاز عباسی نے پاکستان کی سب سے بڑی سپر اسٹور ایمپائر کیسے بنائی؟
How Imtiaz Abbasi Built Pakistan’s Biggest Superstore Empire | Ammarify
بہت خوب! یہاں اردو میں ایک خبریں مضمون (News Article) دیا گیا ہے جو آپ کے فراہم کردہ ٹرانسکرپٹ پر مبنی ہے۔

### **امتیاز عباسی: پاکستان کی سب سے بڑی سپر اسٹور سلطنت کی تعمیر کی داستان**

**کراچی:** پاکستان کی ریٹیل تاریخ کی ایک نمایاں نام، امتیاز حسین عباسی، جنہوں نے ایک چھوٹی سی گرocer کی دکان سے آغاز کر کے ملک کے سب سے بڑے سپر اسٹور ایمپائر کی بنیاد رکھی، ان کی کہانی ہمت، دوراندیشی اور دیانتداری کی ایک شاندار مثال ہے۔

**بچپن اور آغازِ سفر**

امتیاز عباسی کا جنم 1954 میں اٹک میں ہوا۔ جب وہ صرف 9 سال کے تھے، تو ان کا خاندان روزگار کی غرض سے کراچی کے علاقے بہادرآباد منتقل ہو گیا، جہاں ان کے والد حکیم عباس نے ایک چھوٹی سی کریانہ کی دکان کھولی۔ محض 14 سال کی عمر میں ہی امتیاز نے اپنے والد کی دکان پر کام شروع کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی میں چھوٹی چھوٹی دکانیں ہوا کرتی تھیں اور سپر مارکیٹس یا ‘کیش اینڈ کیری’ کا کوئی تصور نہیں تھا۔

**ایک انقلابی خیال: ہوم ڈیلیوری**

سنہ 1968 میں، جب امتیاز صرف 14 سال کے تھے، انہوں نے ایک ایسا کام کیا جس کا اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا — **ہوم ڈیلیوری سسٹم**۔ انہوں نے ایک بائسیکل رکشہ لیا اور لوگوں کے گھروں پر راشن پہنچانا شروع کر دیا۔ یہ بالکل نیا تصور تھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے فلیئرز بنا کر پورے بہادرآباد میں تقسیم کیے، جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بجٹ مارکیٹنگ مہم ثابت ہوئی اور لوگوں کا ان پر اعتماد بڑھنے لگا۔

**سنگاپور کا سفر اور تبدیلی کا نقطۂ آغاز**

سنہ 1978 میں امتیاز عباسی کے سنگاپور کے دورے نے ان کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ وہاں انہوں نے ‘مصطفٰی سپر اسٹور’ دیکھا، جو ایک جدید اور کثیرالمناصب (multi-departmental) ریٹیل سٹور تھا۔ یہ تجربہ ان کے لیے ایک ٹرینڈنگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ وہ پاکستان واپس آئے اور فیصلہ کیا کہ وہ کراچی میں بھی ایسی ہی ایک جدید شاپنگ کی جگہ تخلیق کریں گے۔

**جدید سپر اسٹور کی بنیاد**

انہوں نے اپنی موجودہ دکان کی لمبائی اور چوڑائی بڑھائی، چھت تک شیلفز بنوائے، اور ڈیری مصنوعات کے لیے ایک الگ سیکشن قائم کیا۔ ان کا ہدف ایک ایسا منی سپر اسٹور بنانا تھا جہاں گاہک خود خدمات انجام دیں، مصنوعات صاف ستھری اور منظم طریقے سے ڈسپلے ہوں۔ یہ مقامی ضروریات کے مطابق مغربی ریٹیل ماڈل کو اپنانے جیسا تھا۔

**کامیابی کا راز: بیک ورڈ انٹیگریشن**

امتیاز عباسی جانتے تھے کہ ریٹیل بزنس میں ‘بیک اینڈ’ (Back-end) ‘فرنٹ اینڈ’ (Front-end) سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے **بیک ورڈ انٹیگریشن** (Backward Integration) کا راستہ اپنایا، یعنی انہوں نے اپنی ہی چاول کی مل، آٹے کی مل، اور مصالحوں کی پیسائی اور پیکنگ کی یونٹس قائم کیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی لاگت مقابلے میں کہیں بہتر ہو گئی، وہ تاجروں پر انحصار نہیں رکھتے تھے، اور قیمتوں پر ان کا اپنا کنٹرول تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عام آدمی سستی اور معیاری چیزیں خرید سکتا تھا۔

**تین طبقوں کو نشانہ بنایا**

امتیاز عباسی نے درمیانے طبقے کے صارفین کو بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا، جن کے لیے ‘ویلیو فار منی’، صفائی اور سہولت بہت اہم تھی۔ انہوں نے اپنے بزنس کے لیے ایک توسیعی حکمت عملی تیار کی۔ 2001 میں انہوں نے شاہراہ فیصل پر ‘عوامی مرکز’ کے نام سے اپنا آؤٹ لیٹ کھولا، 2010 میں ناظم آباد میں اور 2013 میں ڈیفنس میں ایک ہائی اینڈ برانچ لانچ کی، جہاں بیکری، سی فوڈ اور فیشن آئٹمز بھی شامل تھے۔ اس طرح امتیاز سپر مارکیٹ نے نچلے، درمیانے اور اعلیٰ طبقے — تینوں segments کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

**کورونا کے بحران میں رہنمائی کا مظاہرہ**

2019 میں جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی، تو امتیاز سپر مارکیٹ کی فروخت میں 50% تک کمی واقع ہوئی۔ جہاں دوسری کمپنیاں ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہی تھیں، وہیں امتیاز عباسی نے اپنی حیرت انگیز قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید **سات نئی شاخیں** کھولنے کا اعلان کیا تاکہ لوگوں کے روزگار محفوظ رہیں۔

**آج کی کامیابی**

آج، امتیاز سپر اسٹور پاکستان کی ایک مستحکم اور معروف برانڈ بن چکی ہے، جس کے 7 لاکھ سے زیادہ فعال گاہک ہیں۔ ہر اسٹور پر صفائی، عملے کے برتاؤ، اور مصنوعات کی میعاد (expiry date) پر سختی سے نظر رکھی جاتی ہے۔ اسٹاف کو ہر 3 ماہ بعد تربیت بھی دی جاتی ہے۔

امتیاز عباسی کی قیادت کا انداز سادہ اور زمینی ہے۔ وہ کہتے ہیں، **”اگر آپ ایمانداری سے کام کریں گے تو پیسہ خود بخود آئے گا۔”** ان کا مشن 20,000 لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ ان کی یہ کہانی ہر نوجوان کاروباری کے لیے مشعل راہ ہے۔

**نوٹ:** یہ مضمون آپ کے دیے گئے ٹرانسکرپٹ کے کلیدی نکات کو یکجا کر کے اردو خبروں کے اسلوب میں لکھا گیا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi