صوبے بھر میں 9 ہزار ایسے اسکولز ہیں جہاں صوبے کی 80 فیصد انرولمینٹ ہے اور ہماری ترجیح ہے کہ ان اسکولوں کو ماڈل اسکولز بنائیں : سعید غنی

کراچی  : وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں 9 ہزار ایسے اسکولز ہیں جہاں صوبے کی 80 فیصد انرولمینٹ ہے اور ہماری ترجیح ہے کہ ان اسکولوں کو ماڈل اسکولز بنائیں۔ صوبے میں 37 ہزار اساتذہ کی کمی کاسامنا ہے، جس کو فیز میں پورا کیا جائے گا۔ جن جن اسکولوں میں طلبہ و طالبات کی انرولمینٹ اور حاضری زیادہ ہے اور وہاں انفرااسٹریکچر اور اساتذہ کی کمی سمیت جو مسائل ہیں وہ ترجیعی بنیادوں پر حل کرنے کے احکامات دے دئیے گئے ہیں جبکہ گذشتہ دنوں ریڑھی گوٹھ کے جس سرکاری پرائمری اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، اللہ کے کرم سے اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے اور اس اسکول کی تعمیرات اور وہاں مزید کمروں کے بنانے کے حوالے سے متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایات دی گئی ہے کہ وہ ورکس اینڈ سروسس محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر فوری اس کا سروے کرے اور کام کا آغاز کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کی علی الصبح ریڑھی گوٹھ، لٹھ بستی سمیت اطراف کے علاقوں میں قائم سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈی ای او ملیر، علاقہ کے منتخب نمائندے اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے ریڑھی گوٹھ میں قائم گورنمنٹ پرائمری گرلز اسکول محمد امین جت اسکول کی عمارت کا معائنہ کیا، جہاں گذشتہ روز ایک کلاس روم کی چھت گرنے کا واقعہ رونما ہوا تھا، اس موقع پر اسکول کے پرنسپل نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ اسکول کے مذکورہ کمرے کی چھت کمزور تھی اور اسی باعث ہم نے دو ماہ قبل ہی یہاں سے بچوں کی کلاس کو دوسری جگہ شفٹ کردیا تھا اور یہ کمرہ خالی کردیا گیا تھا اور اللہ کے کرم سے چھت کے گرنے سے کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کے دیگر کمروں کی حالت زار بھی خستہ ہے اور اس سلسلے میں ہم نے محکمہ کو لکھا ہوا ہے۔ صوبائی وزیر نے اسکول کے تمام کمروں کا وزٹ کیا اور متعلقہ ڈی ای او کو فوری طور پر محکمہ تعلیم کے ورکس اینڈ سروسس کے ساتھ مل کر اس کی مکمل تعمیرات اور مزید کلاس رومز کی تعمیرات کے لئے پی سی ون بنانے کی ہدایت دی۔

سعید غنی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس اسکول میں بچیوں کی ایک بڑی تعداد حصول علم کے لئے صبح سویرے ہی اسکول پہنچ جاتی ہے اور جب میں یہاں 8.30 بجے پہنچا ہوں تو تمام اساتذہ اور کلاسز میں تعلیمی سرگرمیاں جاری تھی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے تدریسی عمل کا جائزہ لیا اور خود بچوں کے ساتھ ان کے ڈیسک پر بیٹھ گئے اور ان سے مختلف سوالات بھی کئے۔ انہوں نے وہاں تعلیم دینے والی خواتین اساتذہ کو بھی شاباشی دی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے ریڑھی گوٹھ اور لٹھ بستی میں قائم متعدد سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کا بھی دورہ کیا اور اس مسرت کا اظہار کیا کہ یہ ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے باوجود یہاں پر طلبہ و طالبات اور اساتذہ صبح سویرے ہی تدریسی عمل کا آغاز کردیتے ہیں اور ان اسکولوں میں انرولیمنٹ کے مقابلے حاضری کا تناسب بھی بہتر ہے۔ اس موقع پر اسکول کے پرنسپلز نے انہیں درپیش مسائل بالخصوص اساتذہ کی کمی اور فرنیچر کے حوالے سے شکایات کی، جس پر صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ صوبے بھر میں 37 ہزار کے لگ بھگ اساتذہ کی ہمیں کمی کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں ہم نے اقدامات شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فیز میں 12 ہزار اساتذہ کو بھرتی کیا جارہا ہے جبکہ مزید دو فیز میں تمام اساتذہ کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر کی کمی اور پرانے ہونے کی شکایات بھی صوبے بھر میں ہیں اور اس حوالے سے بھی کمیٹی نے اپنی شفارشات پیش کی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ 6 ماہ کے اندر اندر ہم اس کمی کو پورا کرلیں گے البتہ ہماری اولین ترجیع وہ 9 ہزار اسکولز ہیں جہاں صوبے کے کل انرولمینٹ کا 80 فیصد طالبعلم موجود ہیں اور ہم ان تمام 9 ہزار اسکولوں کو ترجیعی بنیادوں پر مسائل سے چھٹکارا دلائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں