برطانیہ میں لائیو فیشل ریکاگنیشن ٹیکنالوجی کا قومی نفاذ

برطانیہ میں لائیو فیشل ریکاگنیشن (ایل ایف آر) ٹیکنالوجی کی قومی سطح پر نگرانی اور تعارف کے حوالے سے تنفیذ کی جارہی ہے جس پر کئی انسانی حقوق تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ انگلینڈ کے سات ایریا پولیس فورسز میں 10 خصوصی ایل ایف آر وینز تعینات کی جائیں گی، تاکہ سنگین جرائم کے مشتبہ افراد کی نشاندہی تیز کی جاسکے۔

پولیس دستے جیسے میٹروپولیٹن پولیس نے 2024 میں ایل ایف آر کے ذریعے 1,000 سے زائد گرفتاریوں کا دعویٰ کیا ہے اور اس ٹیکنالوجی کی تنصیب مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم دوسری جانب ایکویلیٹی اینڈ ہیومن رائٹس کمیشن کا موقف ہے کہ پولیس کی ایل ایف آر پالیسی یورپی انسانی حقوق کے آرٹیکل 8 (رازداری)، 10 (اظہار رائے) اور 11 (اسمبلڈ تحقیق) کے خلاف ہے۔

بگ برادر واچ سمیت تنظیمیں اسے “وائلڈ ویسٹ” قرار دیتی ہیں کیونکہ اس کے اطلاق پر واضح قانون یا نگرانی نہیں ہوگی۔

ماہرین نے اعداد و شمار کو محدود قرار دے کر میٹ پولیس کے دعوے کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے کہ کوئی نسلی تعصب یا غلط شناخت نہیں ہوگی۔ تحقیقاتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اینٹی-فیشل ریکاگنیشن سے کالے یا نسلی اقلیتوں کے افراد کو زیادہ غلط شناخت کیا جاتا ہے۔

مزید برآں ناقدین اس اقدام کو ہر گزرنے والے فرد کو بارکوڈ کی طرح بنا دینا قرار دیتے ہیں، یعنی ہر شہری مشکوک تصور ہوسکتا ہے۔ فی الحال برطانیہ میں ایل ایف آر کے استعمال کے لیے کوئی مخصوص قوانین یا ضوابط موجود نہیں اور ماہرین مطالبہ کررہے ہیں کہ اس حوالے سے جلد از جلد ایک کڑی قانون سازی کی جائے۔