کیلیفورنیا میں سات ماہ کے ننھے بچے کے قتل کے کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے حیرت انگیز طور پر بچے کے والد کو ہی اس سنگین جرم میں گرفتار کر لیا۔
کچھ دن قبل کیلیفورنیا میں ایک خوفناک خبر نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا، جب سات ماہ کا بچہ ایمرانیول ہارو اچانک لاپتہ ہو گیا۔ اس کے والد جیک ہارو نے بچے کی شدید تلاش کی جبکہ والدہ ربیکا ہارو رنج و ملال میں مبتلا ہو گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ربیکا نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے بچے کو گاڑی سے نکال کر کرسی پر بٹھا کر بیٹھ گئی تھی، اور اچانک کسی نے “ہولا!” کہا، جس کے بعد سب کچھ دھندلا سا ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو بچہ لاپتہ تھا۔ ماں کے بیان میں دکھ اور آنسو واضح تھے، لیکن پولیس نے کہانی میں کچھ تضادات محسوس کیے۔
بچے کی تلاش کئی روز تک جاری رہی، مگر پولیس کو کوئی ٹھوس سراغ نہ مل سکا۔ والدین سے بار بار پوچھ گچھ کے بعد تفتیش مزید گہری ہوئی، اور شواہد سامنے آنے لگے۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ربیکا کے بیانات میں مسلسل تضاد تھا، اور اس نے آخرکار مزید بیان دینے سے انکار کر دیا۔ آخر کار پولیس نے والدین جیک اور ربیکا ہارو کو ہی بچے کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی دعوے کے برعکس، بچے کا اغوا نہیں ہوا بلکہ شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بچہ جان سے گیا ہے۔ والدین کو بغیر ضمانت جیل بھیج دیا گیا ہے اور تفتیش اور بچے کی باقیات کی تلاش ابھی جاری ہے۔
24 اگست کا منظر نہایت دل دہلا دینے والا تھا، جب والد جیک ہارو کو نارنجی قیدی لباس میں پولیس کے ہمراہ ایک کھیت میں لایا گیا تاکہ بچے کی لاش یا باقیات تلاش کی جا سکیں، تاہم ابھی تک کچھ نہیں ملا۔
یہ کیس امریکہ میں پیش آنے والے ایسے متعدد پراسرار قتل اور گمشدگی کے کیسز کی یاد دلاتا ہے، جن میں جون بینے ریمزی (1996)، نکول براؤن سمپسن و رون گولڈ مین (1994) اور ریپر ٹوپاک شکور (1996) کے کیسز شامل ہیں، جن کی پراسراریت آج بھی برقرار ہے۔























