کیا محمد اورنگزیب پاکستان کے اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں ؟

مستقبل میں پاکستان کی وزارت عظمی کے لیے کون کون مضبوط امیدوار ہو سکتا ہے اس حوالے سے سیاسی سرکاری اور صحافتی حلقوں میں لوگ اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بہت سے لوگ موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو مضبوط امیدوار سمجھتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کا نام بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔

اس حوالے سے پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم چودری محمد علی کا حوالہ دیا جاتا ہے جو 15 جولائی 1905 کو پیدا ہوئے اور دو دسمبر 1982 کو ان کا انتقال ہوا وہ 1955 میں پاکستان کے چوتھے وزیراعظم بنے تھے اور 1956 تک مستفی ہونے تک وزیراعظم رہے چوہدری محمد علی کے بارے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ پہلے وہ وزیر خزانہ بنے تھے انہیں پاکستان کے تیسرے وزیراعظم سید محمد علی چوہدری بوگرا کی کابینہ میں وزیر خزانہ کی حیثیت حاصل تھی محمد علی بوگرا 1953 سے 1955 تک پاکستان کے تیسرے وزیراعظم تھے اور 1955 میں وہ اپنی ہی کابینہ کے وزیر خزانہ چوہدری محمد علی کے حق میں دستبردار ہو گئے استیفہ دے دیا اور ان کے استیفے کے بعد چوہدری محمد علی پاکستان کے چوتھے وزیراعظم بنے تھے

اس تناظر میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا تاریخ خود کو دہرائے گی اور کیا شہباز شریف کسی مرحلے پر اپنی ہی کابینہ کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے لیے وزارت عظمی کی کورسری چھوڑ سکتے ہیں اور کیا محمد اورنگزیب پاکستان کا اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں

اس حوالے سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی طور پر کچھ بھی ممکن ہے اور جس انداز سے محمد اورنگزیب پاکستانی معیشت کو بہتر بنا رہے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں اور انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے وہ پاکستان کا مثبت چہرہ بن کر ابھر رہے ہیں مستقبل میں ان کی حمایت کرنے والوں کی تعداد اور اوازوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وہ پاکستان کے موجودہ بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں دوسری طرف محمد اورنگزیب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے موجودہ ذمہ داری بھی انہوں نے قومی مفاد میں قبول کی انہیں سیاست کا کوئی شوق نہیں ہے وہ پہلے بھی ایک بہترین بینکر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور ان کا کیریئر کامیابیوں سے بھرپور ہے اور بطور وزیر خزانہ بھی وہ بے حد محنت کر رہے ہیں ان کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں معین قریشی یا شوکت عزیز بننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ اپنی موجود ذمہ داریوں اور اپنے کردار سے مطمئن ہیں اور اپنے کردار پر توجہ دے رہے ہیں ان کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان معاشی طور پر مضبوط مستحکم اور خوشحالی کے راستے پر گامزن رہے

Salik-Majeed -Editor Jeeveypakistan.com
============================

ڈھائی کروڑ پاکستانی بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف، وزیر خزانہ
24 اگست ، 2025
اسلام آباد – وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ دو سے ڈھائی کروڑ پاکستانی بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہیں، پاکستان کی نئی معیشت کیلئے بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کی جانب تزویراتی منتقلی ضروری ہے، معیشت کو چلانے کیلئے بلاک چین کو اپنانے، یوتھ لیڈ ڈیجیٹل اثاثہ جات کیلئے متوازن ریگولیٹری فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان کی ترقی کیلئے بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال کرنا چاہیے، مالی شمولیت، شفافیت اور اختراع میں بلا ک چین کا نمایا ں کردار ہے، حکومت، اکیڈمیا اور نجی شعبے کو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل کیلئے تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے ہفتہ کو یہاں منعقدہ بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی اور اختراع کے موضوع پر لیڈر شپ سمٹ سے خطاب کے دوران کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے تکنیکی اختراع کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جب پاکستان میکرو اکنامک استحکام کے حصول کے لیے پیش قدمی کر رہا ہیاگلا ضروری اقدام بلاک چین، مصنوعی ذہانت اور ویب 3.0 ٹیکنالوجیز سے چلنے والی نئی معیشت کی تشکیل میں فعال طور پر حصہ لینا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 20 سے 25 ملین پاکستانی جن میں نوجوانوں کی کثیر تعداد شامل ہے پہلے ہی بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہیں، شرکت کے اس پیمانے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو بروئے کار لانے کے لیے اعتراف، تعلیم اور تشکیل شدہ پالیسی ردعمل کی ضرورت اور پاکستان میں بلاک چین کو اپنانے کے لئے مالی شمولیت، شفافیت اور رفتار تین کلیدی محرکات پر زور دیا ۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ تیز، کم خرچ اور زیادہ موثر لین دین کو فعال کرکے، بلاک چین اور اس سے منسلک ٹیکنالوجیز بینکنگ، ترسیلات زر، زراعت، آئی ٹی، فری لانسنگ اور توانائی کے لیے اہم حل فراہم کر سکتی ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi