” لمس کا جہاں”

naeem

نوٹ: افسانچے میں ایک لفظ ایسا جس کا کہیں استعمال نہیں کیا گیا یہ ہی اس کی انفرادیت ،بوجھو تو جانیں

” لمس کا جہاں”

نعیم اختر

اک شام کی بات
فضا میں دھندلا سا سکون آسمان کی وسعت میں جادو سا بکھرا
پھول اپنی خوشبو لُٹاتے، ہوا نرم لہجے میں گنگناتی اور پانی کی لہک اپنی دُھن سناتی

اسی نازک لمحے میں اک نازنین باغ کی اک پگڈنڈی پہ آئی
اس کے قدم ہلکے، سانس میں خوشبو، آنکھ میں نایاب خواب، لب پر خاموشی کی لَے

اس کی چال میں اک نغمہ اک جادو سا

اسی باغ کے کونے میں اک جواں بھی موجود
وہ اکیلا اپنی سوچ کی دنیا میں کھویا ہوا، وقت کی دھند میں ڈوبا سا
اک پل کو اس کی نگاہ نازنین کی آنکھ سے ملی

خاموشی بول اُٹھی
اک لمحہ اور لمس کا جادو ،وقت تھم سا گیا

نہ کوئی لفظ نہ کوئی صدا بس آنکھ کی زبان، دل کا مکالمہ

پہلا لمس چاہت کا تھا
پھر اُلفت نے اپنا دامن تھام لیا

اک نگاہ میں جیتے لمحے
اک لمس میں پوری دنیا
وقت گزرتا گیا
نہ ملاقات کی طلب نہ کسی وعدے کا جال ، بس محبت کی سانس اور احساس کا لمس
آنکھ میں خواب سماتے، دل میں نغمہ بنتا
محبت سانس بن گئی
چاہت اس کا لمس
اُلفت اس کی دنیا
یہ کہانی ختم نہیں ہوئی کیونکہ محبت کا کوئی
اختتام نہیں ہوتا

یہ بس جیتی ہے
بہتی ہے،دھڑکتی ہے
جیسے خوشبو کی لَے، جیسے سانس کا سفر

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi