
منگلا ریلوے I گمشدہ ریل کی کہانی I آزاد کشمیر جانے والی ٹرین I نے ٹریک اور فکسچر ترک کر دیا
منگلا ریلوے I گمشدہ ریل کی کہانی I آزاد کشمیر جانے والی ٹرین I نے ٹریک اور فکسچر ترک کر دیا
Mangla Railway I Story of the Lost Rail I Train to Azad Kashmir I Abandoned Tracks & Fixtures
انگلا ریلوے: گمشدہ ریل کی کہانی، متروک پٹریوں کے مٹتے نشانات
جہلم: (گیلانی لوگز) خطے کی تاریخ کے ایک گمشدہ باب، مانگلا ڈیم کی تعمیر کے لیے بچھائی گئی ریلوے لائن اور اس کے سٹیشنوں کے مٹتے ہوئے آثار آج بھی اس عظیم منصوبے کی گواہی دے رہے ہیں۔
مقامی تاریخ دان اور یوٹیوبر سید ذوالفقار گیلانی نے اپنے چینل ‘گیلانی لوگز’ پر ایک ویڈیو میں اس گمشدہ ریلوے لائن کے بارے میں تفصیلات شیئر کیں جو کبھی کراچی سے غیر ملکی انجینئرز کو براہ راست مانگلا ڈیم لے جایا کرتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 1960 کی دہائی میں جب مانگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا، تو کراچی ہوائی اڈہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہوا کرتا تھا۔ غیر ملکی انجینئرز کراچی اترتے اور پھر یہیں سے چلنے والی ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے براستہ دینہ مانگلا ڈیم پہنچتے۔ ان انجینئرز اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہاں ایک بہت بڑی کالونی بھی تعمیر کی گئی تھی۔
ذوالفقار گیلانی نے دینہ کے قریب واقع ہسرت پور ریلوے اسٹیشن کے کھنڈرات دکھائے، جو اس دور میں مقامی لوگوں اور مزدوروں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ تھا۔ صبح یہاں سے لوگ مانگلا ڈیم جاتے اور شام کو واپس آتے۔ اب یہ اسٹیشن مکمل طور پر ویران ہو چکا ہے، بس کچھ عمارتوں کے کھنڈرات، پلیٹ فارم کا کچھ حصہ اور جنگلے ہی اس کی باقیات ہیں۔
مقامی رہائشی محمد علی کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہاں سے دو ریلوے لائنیں نکلتی تھیں۔ ایک لائن کوڈ بلیک ڈپو (چک جمال) کی طرف جاتی تھی، جبکہ دوسری لائن کا رخ مانگلا ڈیم اور پھر آزاد کشمیر کی طرف تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لائن سالارنگ تک جاتی تھی، تاہم اس کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ریلوے لائن متروک ہوتی چلی گئی اور اس کی بیشتر پٹریاں اور زمینیں مقامی لوگوں نے قبضے میں لے لیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کئی جگہوں پر ریلوے کی زمین پر سڑکیں بنا دی گئی ہیں، کہیں ہوٹل تعمیر ہو گئے ہیں اور کہیں لوگوں نے کھیتی باڑی شروع کر دی ہے۔ ریلوے کے خوابوں کو بدعنوانی نے بھی نگل لیا، جہاں قیمتی آئرن کے ٹریک نکال کر فروخت کر دیے گئے۔
ذوالفقار گیلانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم اپنی تاریخ اور ورثے کو سنبھال نہیں سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے تاریخی نشانات کو محفوظ کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسل کو پتہ چل سکے کہ اس خطے کا ماضی کتنا شاندار اور پرعزم تھا۔ مانگلا ڈیم کی تعمیر کے لیے بچھائی گئی یہ ریلوے لائن ترقی اور عزم کی ایک ایسی داستان ہے جس کے نشان مٹتے جا رہے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi























