عام طور پر کسی بھی کھلاڑی کی عروج کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہوتی ہے، جس کے بعد زیادہ تر ایتھلیٹس کھیل سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ لیکن جاپان کی کازوکو سوگیوچی نے اس روایت کو توڑتے ہوئے 98 سال کی عمر میں اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کرتے ہوئے باضابطہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کازوکو نے 1948ء میں پیشہ ورانہ طور پر بورڈ گیم “گو” میں قدم رکھا اور گیارہ برس بعد اپنا پہلا اعزاز جیتا۔ بعد ازاں، انہوں نے خواتین کی چیمپئن شپ “میجن چیمپئن شپ” مسلسل چار بار جیت کر اپنی شاندار مہارت کا لوہا منوایا۔
گذشتہ برس اپریل میں وہ جاپان کی سب سے عمر رسیدہ پیشہ ور کھلاڑی بن گئیں، یہ اعزاز ان کے مرحوم شوہر کے پاس پہلے تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں “دان” کے اعزازی درجہ پر فائز کیا جائے گا، اور وہ اس مقام تک پہنچنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بنیں گی۔ یہ اعزاز جاپان کے مختلف کھیلوں میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے والے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔
بورڈ گیم “گو” جاپان، جنوبی کوریا اور چین میں خاصی مقبول ہے اور اپنی پیچیدگی اور حکمت عملی کے اعتبار سے اسے شطرنج سے بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ 2023ء میں ہانگژو میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں بھی “گو” کو شامل کیا گیا، جس سے اس کی بین الاقوامی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔























