ایک خوشگوار سمندری سفر جو ایک پراسرار راز میں بدل گیا

ایک معمولی خاندانی سمندری سفر جسے خوشیوں بھرا آغاز سمجھا جا رہا تھا، اچانک ایک پراسرار اور خوفناک حادثے میں بدل گیا، جس نے ایک امریکی خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

یہ واقعہ 23 مارچ 1998 کو امریکی ریاست ورجینیا میں پیش آیا، جب چار افراد پر مشتمل خاندان—والد رون بریڈلی، والدہ آئیوا بریڈلی، بیٹا بریڈ اور بیٹی ایمی—رائل کیریبین کے پرتعیش کروز پر سیر کے لیے روانہ ہوئے۔ خاندان کے مطابق، ابتدائی دن خوشگوار تھا، لیکن صبح 24 مارچ کو طلوعِ آفتاب سے پہلے ایک لمحے نے ان کی زندگی کے ہر خوشی کے رنگ مٹا دیے۔

رپورٹس کے مطابق، گزشتہ رات ایمی اور اس کے بھائی بریڈ جہاز کی چھت پر کلب میں موسیقی اور رقص سے لطف اندوز ہوئے۔ صبح تقریباً 4 بجے بریڈ نے ایمی سے الوداع کہا اور سو گیا، یہ آخری الفاظ تھے جو وہ اپنی بہن سے کہہ سکا۔ کچھ دیر بعد والد نے بھی ایمی کو بالکنی میں آرام کرتے دیکھا، لیکن آدھے گھنٹے بعد جب دوبارہ دیکھا تو وہ پراسرار طور پر غائب تھی۔ نہ کوئی نشان، نہ کوئی اشارہ۔

ایمی کی گمشدگی نے خاندان پر قیامت طاری کر دی۔ والدین کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نہ حادثاتی طور پر سمندر میں گری اور نہ ہی خودکشی کی، ان کے نزدیک واحد امکان یہ تھا کہ اسے اغوا کیا گیا۔

جہاز کے اگلے مقام کیوراساؤ پہنچنے پر والدین نے عملے سے درخواست کی کہ کوئی مسافر جہاز سے نہ اترے تاکہ ایمی کو تلاش کیا جا سکے، لیکن عملے نے صرف ایک رسمی پیغام نشر کیا اور معمولی تلاش کے بعد اعلان کر دیا کہ شاید وہ سمندر میں گر گئی ہو۔

دو دن بعد FBI نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ تفتیش کے دوران دو افراد پر شک ظاہر کیا گیا:

وین بریٹائگ، جو ان کے کیبن کے ساتھ والے کمرے میں اکیلا سفر کر رہا تھا اور اکثر ایمی سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایلِسٹر “ییلو” ڈگلس، بیس گٹارسٹ، جسے گزشتہ رات ایمی کے ساتھ ڈانس کرتے دیکھا گیا تھا۔

بریڈ کے مطابق، عجیب بات یہ تھی کہ اسی صبح ڈگلس نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کی بہن کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے، جبکہ کسی کو ایمی کی گمشدگی کا علم نہیں تھا۔ مزید دو مسافروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایمی کو ڈگلس کے ساتھ لفٹ میں جاتے دیکھا، لیکن کچھ دیر بعد وہ اکیلا باہر آیا۔

ڈگلس نے ہر الزام کی سختی سے تردید کی اور لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ بھی دیا، تاہم نتیجہ غیر واضح رہا۔

27 سال بعد بھی ایمی کی گمشدگی ایک پراسرار راز بنی ہوئی ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنس گئی ہے، مگر اس کے والدین اور بھائی کا یقین ہے کہ وہ زندہ ہے اور کسی دن اچانک گھر واپس آ سکتی ہے۔

یہ واقعہ آج بھی کئی سوالات چھوڑ گیا ہے: ایک خوشگوار خاندان کی سمندری سیر کس طرح ایک انجان خوفناک حقیقت میں تبدیل ہوئی، اور ایمی بریڈلی کہاں ہے؟