وزیراعظم کو شہزاد اکبر کو پروموٹ کرنے کی بجائے فارغ کردینا چاہیے تھا

سینئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو شہزاد اکبر کو پروموٹ کرنے کی بجائے فارغ کردینا چاہیے تھا، شہزاداکبر بتائیں ان کے بھائی کا اسکینڈل کیا تھا؟ کیا شہزاد اکبر کوئی عدالت ہیں جو خود سے فیصلے دیتے ہیں، بتائیں ڈیڑھ سا ل میں ڈیڑھ سال میں زردری، نوازشریف، احسن اقبال، خسروبختیار کس سے پیسے ریکور کیے۔
انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہ بلاول بھٹو نے اپنے کیس بارے کہا کہ میں سات سال کا تھا جب ڈائریکٹر بنایا گیا، شہزاد کبر کا کہنا ہے کہ بلاول پر جوالزام ہے وہ جائیدادیں 2011ء میں خریدی گئیں، حکومت کو چاہیے یا یہ الزام ثابت کرے یا پھر بلاول کا نقطہ نظر ٹھیک ہے۔انہوں نے شہزاد اکبر نے بیان پر کہ بلاول کوئی ایسی شخصیت نہیں جو ان ٹچ ایبل ہیں، کے جواب میں کہا کہ یہی تو مسئلہ ہے شہزاد اکبر جیسی شخصیت کا ۔
وہ پہلے یہ بتائیں ان کے بھائی کا کیا اسکینڈل تھا؟ کیا وہ مافیا یا قبضہ گروپ تھے؟ کیا شہزاد اکبر کوئی عدالت ہیں تو خود سے فیصلہ صادر کردیتے ہیں۔ یہ شہزاد اکبرخود کس مرض کی دوا ہیں؟ابھی تک کتنے اثاثے ریکورکیے ہیں؟کیا انہوں نے ڈیڑھ سال میں آصف زردری، نوازشریف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، خسروبختیار کے پیسے ریکور کیے ہیں؟شہزاد اکبرنالائق ہیں ان کو پروموٹ کرنے کی بجائے فارغ کردینا چاہیے تھا۔
انہوں نے ترک صدر کے دورہ کے حوالے سے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ مسلم ممالک میں کوئی بلاک نہیں بننے جا رہا، ترکی ہمارا عزیز دوست اور اسلامی بھائی ہے، میاں نوازشریف کے دور میں بھی پاکستان اور ترکی کے بڑے مثالی تعلقات تھے، ترکی نے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری بھی کررکھی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے دوطرفہ تعلقات ہیں لیکن نوازشریف فیملی اور رجب اردوان فیملی کے بھی آپس میں اچھے تعلقات ہیں ، دونوں ایک دوسرے کی شادیوں میں شرکت کرتے رہے۔

اس لیے تعلقات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور ملائشیا 2 واحد ملک ہیں جنہوں نے کشمیر کے معاملے پر بھرپور حمایت کی اور بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی تعلقات کی کوئی پروا نہیں کی۔عمران خان نے طیب اردوان کی گاڑی خود ڈرائیو کی جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن ملک کی گاڑی بھی ڈرائیو کرلینی چاہیے۔ عارف نظامی نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ ترکی کے پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، لیکن پاکستان میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ نوازشریف اور مشرف کے درمیان جتنی بھی ڈیل ہوئی، وہ سعودی عرب اور قطر کی وجہ سے ہوئی تھی۔
شہبازشریف نے بھی ترک صدر کوویلکم کیا ہے، شریف فیملی کو مریم نوازکیلئے ریلیف تو چاہیے ،لیکن مریم نواز کا فیصلہ تو عدالتوں نے کرنا ہے۔وزیرقانو ن کہتے ہیں کہ مریم نواز کو نہیں جانے دیں گے، فیصلہ آیا تو سپریم کورٹ چلے جائیں گے۔ حکومت کو چاہیے مریم نواز کو جانے دیں ، وہ جب چلی جائے گی تو ان کیلئے مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن اگر حکومت احتساب کے تابوت میں کیل کی وجہ سے نہیں جانے دیتی تو میرا خیال ہے کہ حکومت احتساب کا تابوت بچتے اقتدار کے تابوت میں کیل نہ لگوا بیٹھے۔
میرے خیال میں نوازشریف کی سرجری 18 فروری کے بعد ہوجائے گی۔ نوازشریف کی انجیوگرافی ہونے والی ہے، یہ ایسی چیز ہے کہ فوری ہونی چاہیے، اسی لیے مخالفین سمجھتے ہیں کہ نوازشریف وقت گزار رہے ہیں ان کی حالت تشویشناک نہیں ہے، عمران خان نے نیک نیتی کے ساتھ ان کو باہر بھیج دیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں