بیوہ عورت کے بھی کچھ جذبات ہوتے ہیں، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے کیونکہ وہ خود اپنے شوہر کو نہیں مارتی، ہمیں نکاح کو عام کرنا چاہئے

لاہور کے قریب موجود گاؤں کے ایک لڑکے نے بیوہ عورت سے شادی کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ کاشف نے ایک ایسی خاتو ن سے شادی کی ہے جس کہ پہلے ہی 3 بچے ہیں۔اردوپوائنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کاشف نے بتایا ہے کہ یہ شادی میرے والدین کی مرضی سے ہوئی ہے۔مجھے میرے والدین نے بتایا کہ ہم یہ فیصلہ لینے جا رہے ہیں، میں نے ان کی رضامندی میں ہی اپنی ہاں شامل کر دی۔
اینکر فرخ شہبازوڑائچ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کاشف کا کہنا تھا کہ میرا مقصد نوجوانوں کو آگاہ کرنا تھا کہ بیوہ عورت کے بھی کچھ جذبات ہوتے ہیں، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے کیونکہ وہ خود اپنے شوہر کو نہیں مارتی۔ہمیں نکاح کو عام کرنا چاہیئے۔نوجوانوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کاشف کا کہنا تھا کہ جس بھی گھر میں بیوہ ہو، ہمیں اس سے شادی کرنی چاہیئے۔کاشف نے بتایا کہ اس کی دلہن پہلے اس کے ماموں کی بیوی تھیں ،لیکن جب اس کے ماموں فوت ہوئے تو گھر والوں نے کاشف کی شادی کردی۔دوستوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ دوستوں نے بھی بہت کہا کہ میں ایسا نہ کروں، لیکن میں نے کسی کی بھی تنقید کو نہ سنا اور بس اپنے والدین کے کہے پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہ شادی کر لی۔

یاد رہے کہ کاشف نے تین بچوں کی ماں سے شادی کی ہے۔بچوں کی عمریں 7 سال، 4 سال اور ڈیڑھ سال کے قریب ہے۔کاشف نے بتایا کہ اس کے خاندان والوں نے بھی اس کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے ۔یاد رہے کہ کاشف کا تعلق لاہور کے قریب ایک گاؤں سے ہے جہاں اس نے 3 بچوں کی بیوہ ماں سے شادی کر کے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے اور نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ بیوہ عورت کے بھی کچھ احساسات ہوتے ہیں، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے اور نکاح کو عام کرنا چاہیئے



اپنا تبصرہ بھیجیں