کے فور منصوبہ مکمل ہو گیا تو ٹینکرز کا دھندا کیسے چلے گا؟

’’اگر کسی صوبے میں ترقی ہو رہی ہے تو وہ سندھ ہے ‘‘۔ حیرت ہے یہ جملہ کہتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کی زبان لڑکھڑائی ، نہ آنکھ شرمائی ۔ نہ چہرے پر کوئی گھبراہٹ کے آثار ، نہ سندھ کے محروم ووٹرز کے ناراض ہونے کا خوف۔ اردو کا ایک محاورہ ہے ، جوتیوں سمیت آنکھوں میں اترنا ، ہمارے سیاستدانوں کو اس میں ملکہ حاصل ہے ۔سندھ کو چھوڑیئے پہلے کراچی کی بات کیجئے، جسے چیف جسٹس آف پاکستان نے میگا پرابلم سٹی قرار دیا ہے ۔ پانی کی فراہمی ، سیوریج اور نکاسی ٔ آب کا مسئلہ، ناکارہ اور کھٹارہ پبلک ٹرانسپورٹ ، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، جا بجا کچرے کے ڈھیر، بے ہنگم ٹریفک، پبلک ہیلتھ کا ناقص نظام، کچی آبادیوں کا پھیلائو، غیر قانونی تعمیرات، ناجائز تجاوزات،پارکس ، قبرستان اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والا مافیا، ٹینکر مافیا، چائنہ کٹنگ،سٹریٹ کرائمزاور نہ جانے کیا کیا۔ فرماتے ہیں سندھ میں 131 ترقیاتی سکیمیں چل رہی ہیں جن میں سے 17 تو صرف کراچی میں ہیں۔اتر جائیے ، اتر جائیے ، جوتیوں سمیت عوام کی آنکھوں میں اتر جائیے، کیوں کہ عوام نہیں جانتے کہ فروری مارچ میں دھڑا دھڑ ٹھیکے بانٹ کر بجٹ ’’کولیپس‘‘ ہونے سے بچایا جاتا ہے ، کچھ پیسے من پسند ٹھیکیداروں کی جیب میں چلے جاتے ہیں اور ان میںسے کچھ فالودے والوں کے اکائونٹس میں ۔چیف جسٹس صاحب نے فرمایا سو ارب بھی آپ کو دے دیا جائے تو ایک پائی عوام پہ نہیں لگے گی۔ ایک ایک کر کے کراچی کے مسائل پہ بات کریں تو ایک ہزار صفحات کی کتاب کم پڑے گی۔ موٹی موٹی چند چیزوں پہ نظر ڈال لیتے ہیں۔کراچی شہر کی پانی کی طلب 1.2 بلین گیلن روزانہ ہے جبکہ فراہم ہو رہا ہے 45 کروڑ گیلن روزانہ، یعنی آدھے سے بھی کم۔ گویاکراچی میں پانی کی قلت ہے مگر حیرت ہے کہ ٹینکر مافیا کے لیے کوئی قلت نہیں ، انہیں جب اور جتنا پانی چاہیے مل جاتا ہے ۔ پانی لانے والے ٹینکرز شہر میں دندناتے پھرتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پانی کی قلت ہے یا مصنوئی قلت ؟ پانی کی قلت دراصل لوٹ مار کر کے عوام سے پیسے بٹورنے کا منصوبہ ہے ۔ جو حکومت ٹینکر مافیا کو کنٹرول نہیں کر سکتی اور اس کا حصہ بن جاتی ہے وہ شہر اور صوبے کی ترقی کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے ۔

دوسری طرف کے- فور منصوبے کی لاگت میں 150 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور اب بھی یہ تکمیل سے اتنا دور ہے کہ ابھی تک اس کا صرف 43 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے ۔ کے فور منصوبہ مکمل ہو گیا تو ٹینکرز کا دھندا کیسے چلے گا؟ کراچی شہر میں روزانہ 14000 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے اور ٹھکانے لگایا جاتا ہے صرف 8000 ٹن کچرا۔باقی کچرا کہاں جاتا ہے ؟ ظاہر ہے روشنیوں کے شہر کی عظیم الشان سڑکوں اور پارکس کی رونق بن جاتاہے۔دعوے مگر اس کے برعکس ہیں جس پر یقین نہ کرنے کے سوا عوام کے پاس کوئی چارہ نہیںکیوںکہ سچائی شہر کی سڑکوں پہ جابجا بکھری صاف نظر آتی ہے ۔چند دن پہلے کی خبر ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کے زیر انتظام کام کرنے والے محکمہ فائر بریگیڈ کو ڈیزل کی سپلائی بند کر دی گئی جس کی وجہ سے نصف درجن فائر اسٹیشنز پر کھڑے فائر ٹینڈرز ناکارہ ہو گئے جس کے بعد شہر کے صرف آٹھ فائر ٹینڈرز آپریشنل رہ گئے جو کراچی شہر کی تین کروڑ آبادی کے لیے ناکافی ہی نہیں نہایت ناکافی ہیں۔ اب 131 ترقیاتی اسکیمیں چلانے والوں سے کوئی پوچھے حضور اتنے بڑے شہر کی فیکٹریوں اور املاک کو آگ کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا ہے ؟ جو حکومت فائر ٹینڈرز کو ڈیزل سپلائی نہیں کر سکتی وہ 131 ترقیاتی اسکیمیں کیا خاک چلائے گی۔اب آئیے ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کی جانب۔وزیر اطلاعات فرماتے ہیں کہ شہر میں ساڑھے نو سو غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ شہر میں رہنے والے جانتے ہیں یہ تعداد درست ہو ہی نہیں سکتی ، غیر قانونی تعمیرات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ لیکن چلیے ناصر حسین شاہ صاحب کی بات کو ہی درست مان لیجے تو پھر اتنی کم عمارتوں کے مکینوں کو متبادل اور قانونی رہائش فراہم کردینے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے ؟ مصطفی کمال سے چند دن پہلے بات ہو رہی تھی ، کہنے لگے کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیرکے دوران قانونی اور غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے 28 ہزار گھروں کو گرانا پڑا مگر کسی نے احتجاج نہ کیا کیوں کہ انہیں شہر کے اطراف متبادل پلاٹس فراہم کرکے ایک ایک دو دو کمرے تعمیر کرنے کے لیے مناسب سے رقم فراہم کر دی گئی اور مسئلہ حل ہو گیا۔

اب سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں اس فارمولے پر عمل کیا جا سکتا ہے مگر کوئی کرنے کو تیار ہو تو۔ حکومت سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا غیر قانونی تعمیرات میں اس کے ادارے حصہ دار نہیں ؟ جہاں گرائونڈ پلس ون کی اجازت ہے وہاں 60 گز پر تعمیر ہونے والے دس منزلہ پلازے کو کیسے بجلی اور پانی کے کنکشنز دے دیے جاتے ہیں؟ کیا یہ سب کام فائلوں کے نیچے پہیے لگا کر نہیں کیے جاتے اور کیا رشوت کے اس نظام میں شہری اور صوبائی حکومت کے ادارے حصہ دار نہیں ہوتے ۔ آج کتنی معصومیت سے کہہ دیا جاتا ہے ہم لوگوں سے چھت نہیں چھین سکتے ، گویا کہنا وہ یہ چاہتے ہیں کہ غیر قانونی راستے بند کر کے ہم اپنی اور اپنے لوگوں کی آمدن کا مستقل ذریعہ ختم نہیں کر سکتے ۔کراچی وہ بد نصیب شہر ہے جس کی اونر شپ لینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ عوام نے ہر طرف سے مایوس ہو کر تحریک انصاف کو ووٹ دیے مگر اٹھارویں ترمیم کے بعد اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔پیپلز پارٹی دیہی سندھ سے منتخب ہو کر شہری سندھ پر حکومت کرتی ہے اور شہر کی اسے فکر نہیں۔ایم کیو ایم کو سالہا سال تک موقع ملا مگر گلے شکووں اور لوٹ مار کے علاوہ اس نے بھی عوام کیلئے کچھ نہ کیا ۔ کراچی میں 1952 ء میں پہلا منصوبہ ’’ عظیم تر کراچی منصوبہ ‘‘ کے نام سے لانچ کیا گیا۔ پھر 1958 ء میں ’’عظیم تر کراچی آباد کاری منصوبہ‘‘ لایا گیا۔پھر 1974ء ، 1985ء اور 2020ء میں کراچی کے لیے منصوبے متعارف کرائے گئے مگرافسوس کہ حکومتوں نے جوتیوں سمیت عوام کی آنکھوں میں اترنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔asadullah-khan-92-daily

اپنا تبصرہ بھیجیں