موروثی سیاست کے خلاف تھا، میری دعا ہے کہ عوام اور نوجوانوں میں سے وزیراعظم آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس استحصالی نظام نے نوجوانوں کے سامنے اتنی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں کہ وہ بغیر پیسوں کے اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کرسکتے، آج یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے بھی 2 سے 3 لاکھ روپے درکار ہیں، ملک میں میرٹ پر کوئی کامیاب نہیں ہو رہا

لاڑکانہ(بیورورپورٹ) لاڑکانہ میں ٹیم جونیئر ذوالفقار علی بھٹو یوتھ لاڑکانہ کی جانب سے ضلعی آرگنائزر شہباز بھٹو، ولی محمد لاہوری اور عاقب کاٹھیو کی طرف سے جونیئر ذوالفقار بھٹو کے اعزاز میں مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے مرکزی رہنما عنایت عمرانی، جاوید لاہوری، صدام جیسر، سرفراز کھوکر، صدام جتوئی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد نے شرکت کی، تقریب میں نوجوانوں کی جانب سے جونیئر ذوالفقار بھٹو کو امام ضامن باندھ کر اجرک، ٹوپی، پھولوں کے ہار اور بوسکی پگڑی کے تحائف پیش کیے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جونیئر ذوالفقار بھٹو نے کہا کہ لاڑکانہ کے نوجوان بہترین کام کر رہے ہیں، میں ان کا شکر گزار ہوں، انہیں کبھی نظر انداز نہیں کروں گا، میری داڑھی سفید ضرور ہوگئی ہے لیکن میں ابھی بھی نوجوان ہوں کیونکہ میری عمر صرف 35 سال ہے، اسی لیے میں خود کو نوجوانوں میں شامل سمجھتا ہوں اور پہلی بار نوجوانوں کی تنظیم میں ممبرشپ لے رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ جب میں پاکستان آیا تھا تب سے نوجوان میرے ساتھ ہیں، ہم اپنے بڑوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن میں نوجوانوں کی قربانی کا بھی احترام کرتا ہوں، نوجوانوں کے ساتھ مل کر ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اللہ تعالیٰ ہمیشہ راستہ دکھاتا ہے اور انشاءاللہ آگے بھی دکھائے گا، کچھ سال قبل میں نے کہا تھا کہ سیاست میں حصہ نہیں لوں گا کیونکہ میں موروثی سیاست کے خلاف تھا، میری دعا ہے کہ عوام اور نوجوانوں میں سے وزیراعظم آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس استحصالی نظام نے نوجوانوں کے سامنے اتنی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں کہ وہ بغیر پیسوں کے اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کرسکتے، آج یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے بھی 2 سے 3 لاکھ روپے درکار ہیں، ملک میں میرٹ پر کوئی کامیاب نہیں ہو رہا بلکہ کرپٹ لوگ ہی آگے آرہے ہیں، ہم ان چہروں سے تنگ آچکے ہیں، اب وقت ہے کہ مزدوروں، طلبہ اور نوجوانوں کا راج قائم ہو، انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ آج خطرے میں ہے، ہم نے عوامی طاقت دکھا کر اسے بچایا ہے، اب غیرملکی سرمایہ کار بھی حکومت کے “گرین انیشی ایٹو پاکستان” منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے کیونکہ ہم نے دکھا دیا کہ عوامی طاقت سے ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے، ہماری جدوجہد اب نوجوانوں سے شروع ہورہی ہے اور اس بار ہمارا تجربہ مختلف ہوگا، انہوں نے کہا کہ طلبہ کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلیمی ادارے غیرمحفوظ ہوگئے ہیں، جنرل ضیاء نے طلبہ یونین پر پابندی اس لیے لگائی کیونکہ نوجوانوں نے شہید بھٹو کا ساتھ دے کر انہیں ووٹ دیئے، آج کے نوجوان پڑھے لکھے ہیں اور نظام سے بیزار ہوچکے ہیں، وہ تبدیلی چاہتے ہیں اور ہم وہ تبدیلی لے کر آئیں گے، انہوں نے کہا کہ امیر اپنی کرسی بچانے میں لگے ہیں، کل نواز شریف تھا، آج زرداری ہے، کل کوئی اور ہوگا، ہم اس چکر میں نہیں پڑیں گے، ہمیں کرسی نہیں بلکہ عوام کے حق کے لیے جدوجہد کرنی ہے، چاہے جان بھی قربان کرنی پڑے، انہوں نے کہا کہ نوجوان متحد ہوجائیں، اختلافات بھلا دیں، مساوات اور برابری کے اصول پر ایک ہوں، پاکستان، سندھ اور لاڑکانہ کو شاہ لطیف بھٹائی کے نام پر متحد ہونا ہوگا، سندھ اور دیگر علاقے مشکل میں ہیں، حالیہ سیلاب میں کئی گاؤں تباہ ہوگئے ہیں، ہمیں ان کے لیے بھی آواز اٹھانی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے گلگت بلتستان، سوات اور کراچی کے متاثرین کے لیے بیانات دیے لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری ریاست کہاں ہے؟ 2022ء میں وعدہ کیا گیا تھا کہ دوبارہ ایسا سیلاب نہیں آئے گا لیکن اربوں ڈالر لینے کے باوجود عوام محفوظ نہیں ہوئے، یہ پیسہ کہاں گیا؟ زرداری صاحب جواب دیں، سندھ کے عوام کے پیسے کہاں ہیں؟ آج ہمارا دشمن استحصالی نظام ہے، جس کا نام کبھی زرداری ہوگا اور کل کوئی اور، ہمیں اس کے لیے تیار رہنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ میرے والد شہید میر مرتضیٰ بھٹو کا وعدہ تھا روٹی، کپڑا، مکان کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس بھی عوام کو دی جائے گی، ہم بھی یہی وعدہ کرتے ہیں، انشاءاللہ ہم نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی مضبوط جماعت قائم کریں گے جسے کوئی ختم نہیں کر سکے گا۔

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi