عنوان: پاکستانی عوام اور خاموش اجارہ داری
مصنف: عقیل اختر
کہا جاتا ہے کہ زمین کا سینہ انسان کے لیے خزانہ ہے۔ جہاں بھی انسان نے کھدال ماری، وہاں سے کبھی تیل کے چشمے پھوٹے، کبھی تانبا اور سونا برآمد ہوا۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ قومیں خوشحال ہوئیں جنہوں نے اپنے وسائل کو امانت سمجھ کر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا۔ مگر بدقسمتی سے کچھ خطے ایسے ہیں جہاں وسائل تو نکلتے ہیں لیکن عوام کی جھولیاں خالی رہتی ہیں۔ہمارا ملک بھی انہی خطوں میں شامل ہے۔ حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ یہاں تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، پہاڑوں میں تانبا اور سونا موجود ہے، اور کچھ مقامات سے تو اس دولت کا نکالنا بھی شروع ہو چکا ہے۔ لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس دریافت نے کوئی آسانی پیدا نہیں کی۔ عوام آج بھی مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟اس سوال کا جواب ہمارے طاقت کے ڈھانچے میں پوشیدہ ہے۔ یہاں پردے کے پیچھے موجود قوتیں ہر چیز پر قابض ہیں۔ بظاہر جمہوریت کا تماشا جاری ہے، وزراء اور سیاست دان نظر بھی آتے ہیں، مگر اصل فیصلے وہ نہیں کرتے۔ جو دکھائی دیتا ہے وہ محض اداکاری ہے، اسکرپٹ کہیں اور سے آتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اہلِ دانش ”خاموش مارشل لا” کا نام دیتے ہیں۔ شور شرابہ کہیں سنائی نہیں دیتا مگر سکوت کے پردے میں سب کچھ قید ہے۔عدالتوں کی مثال لیجیے۔ بظاہر بڑے بڑے بینچ بنتے ہیں، لمبے فیصلے سنائے جاتے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ فیصلے وہی ہوتے ہیں جو پردے کے پیچھے بیٹھے طاقتور چاہتے ہیں۔ جج صاحبان محض وہ الفاظ دہراتے ہیں جو ان کے سامنے رکھ دیے جاتے ہیں۔ انصاف کا چراغ بجھ چکا ہے، اور قانون کی کتاب اب صرف کمزور کے خلاف کھلتی ہے۔ طاقتور کے لیے ہر راستہ آسان ہے، ہر دروازہ کھلا ہے۔الیکشن کمیشن ہو یا پارلیمنٹ، بیوروکریسی ہو یا میڈیا—سب ادارے محض نمائشی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اصل اختیار کہیں اور مرتکز ہے۔ عوام کے ووٹ کی قیمت کم ہو چکی ہے اور اقتدار کا کھیل چند مخصوص ہاتھوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ جو نظام بظاہر آئین کے تابع دکھائی دیتا ہے، وہ حقیقت میں چند طاقتوروں کی مرضی کا پابند ہے۔وسائل کی دریافت کے باوجود عوام کی حالت بہتر نہ ہونا اس اجارہ داری کی واضح دلیل ہے۔ اگر یہ وسائل واقعی عوام کے کام آتے تو آج بجلی سستی ہوتی، تیل کی قیمت قابو میں ہوتی، روزگار کے مواقع بڑھتے اور غربت کا دائرہ سکڑتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دولت زمین سے نکل کر چند ہاتھوں میں سمٹ رہی ہے، اور عوام کے حصے میں محرومی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں آ رہا۔عوام کی زندگی کا حال یہ ہے کہ وہ وسائل کی زمین پر رہتے ہوئے بھی خالی پیٹ سوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ سونا نکل رہا ہے، تیل بہہ رہا ہے، لیکن ان کے گھروں کے چولہے بجھے رہتے ہیں۔ ان کی محنت کا پھل کسی اور کی تجوریوں میں جا رہا ہے۔ ان کے خوابوں پر مہنگائی کا بوجھ ہے اور ان کی امیدوں پر بے روزگاری کا قفل ہے۔یہ صورتحال نئی نہیں۔ تاریخ میں کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں طاقتور اشرافیہ نے وسائل پر قبضہ کیا مگر عوام کو کچھ نہ ملا۔ رومی سلطنت کی طاقت تلوار کے زور پر تھی مگر جب عوام کا اعتماد ٹوٹا تو پوری سلطنت بکھر گئی۔ عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی مگر ظلم اور ناانصافی نے اسے زوال کی طرف دھکیل دیا۔ برصغیر کی زمین زرخیز تھی مگر غیر ملکی قوتوں نے یہاں کے وسائل لوٹے اور عوام کو غلام بنا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طاقتور وقتی طور پر تو کامیاب رہے لیکن تاریخ کے دھارے میں بہہ گئے۔اسی طرح آج بھی وسائل پر قبضہ کر کے وقتی خوشحالی ضرور حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن یہ خوشحالی چند افراد تک محدود رہتی ہے۔ عوامی محرومی آخرکار ایک لاوے کی طرح پھٹتی ہے اور نظام کو بہا لے جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ عوامی آواز کو کچھ عرصے کے لیے دبایا جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ وسائل اللہ کی امانت ہیں۔ یہ چند افراد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ اگر یہ امانت ایمانداری سے استعمال ہو تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اسکولوں میں علم کی شمعیں روشن ہو سکتی ہیں، اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں میسر آ سکتی ہیں، روزگار کے دروازے کھل سکتے ہیں، اور مہنگائی کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ مگر اگر یہ دولت صرف طاقتوروں کی تجوریوں میں چلی گئی تو عوام کے حصے میں صرف اندھیرا ہی رہے گا۔ادب اور تاریخ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اصل طاقت انصاف اور عوام کے ساتھ ہے۔ فرعون کی سلطنت اپنی بظاہر لا محدود طاقت کے باوجود نہ بچ سکی کیونکہ اس نے انصاف کو پامال کیا۔ موسٰیؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے کیونکہ وہ عوامی حق اور انصاف کی آواز تھا۔ طاقت کی مسند بظاہر مضبوط نظر آتی ہے مگر وہ کچی ہے اگر اس کے نیچے انصاف اور عوامی تائید کا ستون نہ ہو۔ہمارے ملک کو بھی اسی راستے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ خطہ خوشحال ہو تو ہمیں طاقت کی اجارہ داری توڑنی ہوگی۔ اداروں کو اصل آزادی دینی ہوگی، عوام کو ان کے وسائل کا مالک بنانا ہوگا اور انصاف کے چراغ کو دوبارہ جلانا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔























