پنجاب کے مختلف اضلاع میں جاری موسلادھار بارشوں کے باعث دریاﺅں کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں دریائے سندھ سے متاثرہ علاقوں تک زمینی راستے منقطع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 7 ہزار سے زائد افراد اور 100 کے قریب بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔
ڈی جی خان کے تونسہ کے علاقے میں کچے کے علاقے زیر آب آگئے، جس سے 70 سے زائد بستیاں، پل اور سڑکیں متاثر ہوئیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس علاقے کے 150 سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
ادھر خیرپور ٹامیوالی میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے آس پاس کی سیکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس سے مقامی آبادی شدید پریشان ہے۔
اسی طرح دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے سبب سیلاب کی صورتحال سنگین ہو رہی ہے۔ چشتیاں کے علاقے بستی جھنڈوں کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو رہا ہے۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی بند دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قصور میں بھی دریائے ستلج کے کنارے نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ چندہ سنگھ، مستے کی، نگر، ایمن پورہ اور چھانٹ کے زمینی راستے پانی میں ڈوب جانے کے سبب کٹ گئے ہیں۔ ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 20 فٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ بہاؤ 70 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق، موجودہ بارشوں کے پیش نظر پانی میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس پر ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ دیہات سے لوگوں اور ان کے مال مویشی کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ریلیف کیمپوں میں متاثرہ افراد کو طبی امداد اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر ریلیف کیمپوں سے رجوع کریں۔























