امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل اسلام کی حققیت سے واقفیت میں ہے : جامعہ ازہر مصر کے نائب صدر ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر سے خصوصی انٹرویو

انٹرویو: یاسمین طہ
امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل اسلام کی حققیت سے واقفیت میں ہے
اسلام اور تصوف میں گہرا تعلق ہے، تصوف کو سمجھ لیا جائے تو دنیا سے 
تشدد اور خوف کا عنصر ختم ہو جائے گا،
جامعہ ازہر مصر کے نائب صدر ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامرسے انٹرویو
جامعہ ازہر مصر کے نائب صدر ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر نے کہا ہے کہجامعہ ازہر ایک معتبر ادارہ ہے اور مذہبی حوالے سے بھی اس کی ایک اہمیت ہے ۔ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل اسلام کی اصل حقیقت سے واقف ہونے میں ہے ،جامعہ الازہر میں صرف دینی نہیں بلکہ دنیا کی جدیدتعلیم بھی دی جا رہی ہے ،اسلام اور تصوف کا آپس میں گہرا تعلق ہے اگر تصوف کو سمجھ لیا جائے تو دنیا سے تشدد اور خوف کا 

 عنصر خود بخود ختم ہو جائے گا۔ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم پر زور نہیں دیتے،جب کہ یہی خواتین انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے صوفی کانفرنس میں شرکت کے لئے کراچی آمد پر روزنامہ اوصاف سے خصوصی گفتگو میں کیا۔جس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
ازہر یونیورسٹی کو جو مقام حاصل ہوا ہے اس کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر :جامعہ ازہر ایک قدیم یونیورسٹی ہے یہ ایک ہزار ستر سال پرانی ہے اور جب سے یہ یونیورسٹی قائم ہوئی ہے اس کے بعد سے اب تک اس یونیورسٹی کی افادیت برقرار ہے۔ ماضی میں اسلامک اسٹیڈیز اور عربی زبان کی تعلیم دی جاتی تھی یعنی شرعی علوم جس کا تعلق عربی زبان سے ہو۔1960 کی دہائی کے بعد یونیورسٹی نے دوسرے مضامین بھی شروع کیئے اور اب شرعی علوم کے ساتھ ساتھ تمام دنیاوی علوم بھی یہاں پڑھائے جارہے ہیں اور اسے امت مسلمہ کی ایک اہم یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو ممالک سے طالب علم یہاں تعلیم حاصل کرنے آرہے ہیں اور یہاں مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے ۔اسلامک اسٹیڈیز اور عربی زبان کیلئے یہ یونیورسٹی مفت تعلیم دے رہی ہے۔ میڈیکل انجینئرنگ کی ایک فیس مقرر ہے، جو نسبتاً دیگر ممالک کے تعلیمی اداروں سے کم ہے۔ ادارے کے تمام مالی اخراجات مصر کی حکومت برداشت کرتی ہے ایک اہم بات یہ ہے کہ الزہر کی کئی شاخیں ہیں جن میں سے ایک ازہریونیورسٹی ہے اس کے علاوہ الازہر اسکول بھی ہیں جو لاتعداد ہیں، الازہر اسکول میں جو داخلہ لیتے ہیں وہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوکر نکلتے ہیں۔ الازہر یونیورسٹی کے کئی پروٹوکول ہیں اور تمام مشہور بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے ان کے رابطے ہیں اور تصوف اس یونیورسٹی کا ایک اہم ترین مضمون ہے جو یونیورسٹی کے نصاب میں اہمیت کا حامل ہے ۔
آج کل نوجوانوں میں تصوف کا کتنا رجحان نظر آرہا ہے اور آپ کی یونیورسٹی میں اس مضمون میں جو طالبعلم ہیں ان کی کیا شرح ہے ۔
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر:ہمارے ہاں ایک فیکلٹی ہے کلیہ اصول الدین جس میں عقیدہ فلسفہ حدیث اور تفسیر کے چارالگ شعبے ہیں اور دعوت کا ایک علیحدہ شعبہ ہے ان تمام شعبوں میں تصوف بطور ایک مضمون کے پڑھایا جاتا ہے الازہر کی تعلیم میں تصوف بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔
ایشیا کے کس ملک میں آپ تصوف کا رجحان دیکھ رہے ہیں ؟
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر :تصوف تقریبا ہر ملک میں ہے چاہے وہ مشرقی وسطی کے ممالک ہوں یا مغربی ممالک کیونکہ تصوف کے معنوں میں حسن سلوک اور حسن اخلاق شامل ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن سلوک اور حسن اخلاق ہونا چاہیئے اس کے بعد اللہ کے بندوں سے حسن سلوک اللہ کی مخلوق سے حسن سلوک جس میں پرندے اور جانور بھی شامل ہیں ۔ اس لیئے ہر ملک میں اور ہر زمانے میں آپ کو تصوف ملے گا تصوف ہی وہ ذریعہ ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں والدین آج کل اپنے بچوں کے ساتھ حسن سلوک سے کام لیں تو ان کے بچے ترقی کی جانب گامزن ہوں گے آج کل خواتین کے حوالے سے جو کچھ ہورہا ہے اگر مرد اسلامی نقطہ نظر سے خواتین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کریں تو خواتین ترقی کریں گی لیکن آج کل خواتین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے اس کے ہم سب ذمہ دار ہیں ۔
خواتین کی آزادی کے جو نعرے لگتے ہیں اس پر آپ کی کیا رائے ہے اورآپ کے نزدیک خاتون کی آزادی کی کیا حد ہے ۔
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر :جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خواتین کو آزادی نہیں دی جائے، وہ اسلام سے واقف نہیں ہیں کیونکہ اللہ کے نزدیک سب کو آزادی حاصل ہے ہمارے مذہب نے یہ بتایاہے اور ہمارے رسول نے یہ بتایا ہے کہ ہم سب آزاد ہیں ہم نے بنی آدم کو بڑی عزت بخشی ہے یہ بات قرآن شریف میں درج ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں کہا ہے کہ یہ صرف مرد کیلئے ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام لوگوں سے حسن سلوک اختیار کرنا چاہیئے جب تک کہ وہ ہمیں تکلیف نہ دیں اگر وہ ہمیں تکلیف دیتے ہیں تو ہم اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں افسوس یہ ہے کہ ہم خواتین کے ساتھ اسلامی نقطہ نظر کے حوالے سے سلوک روا نہیں رکھتے عورت ہر اعتبار سے آزاد ہے عورت مالی طور پر بھی آزاد ہے اور شادی کیلئے بھی آزاد ہے بلکہ چار لوگ ان کی خدمت کیلئے موجود ہیں جن میں والد بیٹا بھائی اور شوہر شامل ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیئے ہیں اس سے ہم واقف نہیں اسی لیئے ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں خواتین کی وجہ سے ہی ہماری امت آگے بڑھ سکتی ہے اگر ہم لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف ہوجائیں تو ہم تمام لوگوں کو حقوق دے سکیں گے اسی صورت میں ہم آگے جاسکتے ہیں ۔
اوصاف:اس وقت کس ملک کے طالبعلم سب سے زیادہ یہاں موجود ہیں ؟
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر :جنوبی ایشیا ئی ممالک کے طالبعلموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن میں پاکستان بنگلہ دیش ملیشیا اور انڈونیشیا کے طالبعلم شامل ہیں،اس وقت انڈونیشیا کے طالبعلم سب سے زیادہ ہیں
کون سے مضمون میں یہ لوگ سب سے زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ؟
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر:اسلامک اسٹڈیز اور عربک لینگویج ۔ہمارے ہاں میڈیکل کی چھ فیکلٹیز بھی موجود ہیں جن کی کئی شاخیں ہیں اور اس میں میڈیکل کے طالبعلم بھی موجود ہیں اور میڈیکل کی تعلیم میں ہم ہر ملک کی یونیورسٹی کا مقابلہ کرسکتے ہیں بلکہ کچھ ایسے موضوعات ہیں جن میں ہم دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے بہت آگے ہیں کیونکہ ہمارے طالبعلم جس یونیورسٹی میں بھی مقابلے کیلئے جاتے ہیں وہاں سے جیت کر آتے ہیں
آپ نے یہ بتایا کہ جامعہ ازہر کے اسکول بھی موجود ہیں تو کیا یونیورسٹی میں داخلے کیلئے اسی اسکول کے بچوں کو فوقیت دی جاتی ہے ؟
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر :جو بھی داخلے کیلئے رجوع کرتا ہے ہم انہیں داخلہ دیتے ہیں اپنی نوعیت کی یہ واحد یونیورسٹی ہے اسی لیئے ہم کسی کو بھی داخلے سے محروم نہیں کرتے خاص طور پر اسلامک اسٹڈیز اور عربک لینگویج کیلئے جو بھی رابطہ کرتا ہے اسے داخلہ دیا جاتا ہے
آپ کا پاکستان کے دورہ کا مقصد صوفیا کانفرنس میں شرکت ہے اس کانفرنس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
ڈاکٹر پروفیسر یوسف عامر :جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یہ بھی ایک عبادت کی ہی ایک قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ایک دوسرے سے واقف ہوجائیے ایک دوسرے سے جو تعارف حاصل ہوتا ہے یہ بھی ایک عبادت کی قسم ہے کہ ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا جائے تاکہ ہم اپنی امت کو آگے بڑھا سکیں اس لیئےایک دوسرے سے تعارف کے اعتبار سے یہ صوفی کانفرنس بہت اہمیت کی حامل ہے جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملیں گے اور بات کریں گے تو امت مسلمہ کے موجودہ مسائل سے بات کریں گے اور ان مسائل کا حل تلاش کریں گے تو یہ تبادلہ خیال بہت اہمیت کا حامل ہے مسلمانوں کیلئے کیونکہ یہ آج کل بہت ضروری ہے اس لیئے کانفرنس کی بہت افادیت ہے اور اہمیت ہے امت مسلمہ کے تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ ہم اسلام کی حققیت سے واقف ہوجائیں اور ایک دوسرے کا احترام کریں چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ۔
سائیڈ اسٹوری
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قائم ”جامعہ ازہر“ کو عالم اسلام کی ایک عظیم درسگاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس میں دینی اور دنیوی تمام علوم کی تعلیم دی جاتی ہے،دینی تعلیم کے لیے جامعہ ازہر شریف کو عالم اسلام میں اہم ترین مقام حاصل ہے ۔اس وقت ازہر کے طلبہ کی کل تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے ،جس میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی طلبہ ہیں۔جن کا تعلق 100 سے زائدممالک سے ہے ۔جامعہ ازہر میں تعلیم سے متعلق تمام شعبہ جات کی تعداد تقریباً 70 ہیں۔ یہاں پر عصر حاضر کی عالمی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے جتنے شعبے ہیں وہ سب جامعہ ازہر میں موجود ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں