
امیر محمد خان
یوم آزادی میں پوشیدہ پیغام کو بھی یاد کریں
پاکستانی ارباب اقتدار نے جس طرح دل کھول کر اس سال سول اور دیگر تمغموں کی بارش کی ہے وہ ایک یادگار ہے، ماضی میں بھی حکومتیں ان ہی عمال کی مرتکب ہوتی رہی ہیں مگر اب دور سوشل میڈیا کا ہے، سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے لوگ اپنی نظریں تیز رکھتے ہیں اور نہائت ہی جھوٹ ملاکر اپنی تشہیر کا ذریعہ بنتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہواہے کہ بڑے پیمانے پر سول ایوارڈز اپنے ہی وزراء کو دے دئے جو موزع بنا، وزیر اعظم نے چند دن پہلے اعلان کیا تھا وفاقی وزراء اپنی کارکردگی پیش کریں اگر انہوں نے کوئی کارہائے نمایاں انجام دئے تھے جن لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے انکے علم میں بھی لانا ضروری تھا کہ وہ خوش ہوتے کہ ہم نے بڑے قابل شخص کو ووٹ دیا ہے مگر ایسا کچھ نہیں اس سال مئی میں بھارت کو دھول چٹانے پر عسکری قیادت کوایک نہیں کئی ایوارڈ، اور ستائش ملنا ضروری ہیں، اور عوام کا ہر طبقہ عسکری قیادت کی بھرپورستائش کررہا ہے جنہوں نے 25 کروڑ عوام کی عزت کو دنیا میں سر اٹھاکر چلنے کا موقع دیا ، عسکری قیادت کی ستائش صرف پاکستان کے عوام نے نہیں بلکہ عالمی سطح پر اسکی پذیرائی ہوئی، مگر اپنے اتحادیوں کو، اپنے وزراء کو تمغوں کی تقسیم سمجھ سے بالا تر ماسوائے وزیر اطلاعات کے جنہوں نے بھارتی میڈیا کے سفید جھوٹ پروپگنڈے کو ISPR سے ملکر نیست و نابود کیا ، اپنی جماعت یا اتحادی سیاست دانوں کو تمغوں کی تقسیم؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آج کا محب وطن سیاست دان کل کا غدار ہوتا ہے ایسے میں سیاست دانوں کو تمغوں کی تقسیم ؟؟؟،والد صاحب نے اپنے بیٹے اور سسر جی کو ایوارڈ دیا ، بیٹے سے کوئی یہ بھی پوچھ لے سندھ میں بلا شرکت غیر گزشتہ 17 سال سے حکومت ہے اندرون سندھ بشمول کراچی کیا ہورہا ہے؟؟سسر کو تمغہ پر اعتراض نہ ہوتا اگر اس موقع پرمحسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذکر بھی ہوتا انکے نام سے تو پر پر جلتے ہیں۔ اتحادیوں کے علاوہ بھی کچھ سیاست دان ہیں جو اس سے مستفید ہوسکتے تھے وہ اتحاد میں تو شامل نہیں مگر حکومت سے انکا کسی نہ کسی طرح کا تعاون،ماسوائے تحریک انصاف کے جنہیں اچھائی تو نظر آنا بند ہوچکی ہے و ہ سیاسی جماعت عمران رہا کرو جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے حسب روائت اس پر بھی سینیٹ میں ہنگامہ برپا کردیا سینیٹ میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی کیونکہ اپوزیشن قانون سازوں نے حکمراں اتحاد پر الزام لگایا کہ وہ غیر متناسب طور پر کابینہ کے ارکان اور وفادار اتحادیوں کی حمایت کرتے ہوئے ایوارڈز کی سیاست کر رہے ہیں ، اگر ان تمغوں کی فہرست نوکر شاہی نے بنائی تھی تہ پھر ایسا ہی ہونا تھا چونکہ سیاست دان ہوں یا نوکر شاہی جب تک سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں وہ قائد اعظم محمد علی جناح سے زیادہ اتحاد اور محب وطنی کا درس دیتے ہیں اور جب سسٹم کا حصہ نہیں رہتے تو پھر ان سے سنیں، بقول میرے مہربان ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم کے یہ لوگ تنخواہ کے عوض محب وطن ہوتے ہیں۔،میں خود ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دوران ملازمت اپنے افکار اور بات چیت سے عوام کو محب وطنی کا درس دیتے ہیں، سسٹم سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ فیس بک، واٹس اپ پر اپنے دوستوں کو کیا کیا پیغام دیتے ہیں۔سینیٹ میں بحث کے دوران، اپوزیشن اراکین نے یوم آزادی کے سرکاری اشتہارات پر بھی مسئلہ اٹھایا جس میں بانیِ قوم، قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر نہیں تھی۔یہ شور غل تحریک انصاف نے اٹھایا، جنہوں نے 9مئی کو اسی قائد اعظم کی تصاویر کے ساتھ کیا کیا تھا۔14اگست کو قائد اعظم کی تصویر
کا اشتہار میں نہ ہونے کو عوام نے بھی محسوس کیا جو ایک واقعی اعتراض بنتا تھا۔ یہ اشتہار بھی نوکر شاہی کی کارستانی ہی ہوگی چونکہ اب ہم قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کو فریم میں بند کرکے اپنی ذمہ داری کو مکمل سمجھتے ہیں ، چونکہ بعد رحلت قائد عوام تو یتیم ہو چکی ہے، سیاست دان اور خاص طور پر نوکر شاہی کو پتہ ہے کہ اب قائد اعظم محمد علی جناح نہ ہی کسی کی ترقی کراسکتے ہیں یاتنزلی تو پھر احترام کس بات کا ، مجھے یا ہے کہ جدہ میں ایک مرحوم مسلم لیگی نے قائد اعظم محمد علی جناح پر مجھ سے کہاکہ اخبار کیلئے اس موقع پر ایک اشتہار بنادوں، ساتھ ہی مرحوم نے مجھے قائد اعظم ، میاں نواز شریف، شہباز شریف، انکی اپنی تصویر، پانچ دیگر عہدیداران (یقنی بات ہے انہوں نے اشتہار کی قیمت کی ادائیگی کی ساجھے دار کی ہوگی) اور ساتھ ہی پندرہ لوگو ں کے نام ، یوم پیدائش پر تہنیتی پیغام، چونکہ اشتہار شائد 15سینٹی میٹر کا تھا میں نے مرحوم کو مشورہ دیا کہ یہ اشتہار نظر نہیں آئے گا اس میں تصاویر کم کردیں، میراخیال تھا کہ وہ مقامی عہدیداروں کی تصاویر کم کردینگے، مگر میں ششد رہ گیا جب انہوں نے کہا کہ ”قائد اعظم کی تصویر کڈ دو“ اسکے بعد میرے پاس کوئی جواب نہ تھا اسکے علاوہ کہ اشتہار کسی اور سے بنوالو۔ اسلام آباد کی تقریب تقسیم تمغہ میں صحافیوں کو بھی نواز گیا اگر صحافیوں نے کوئی کارہائے نمایان انجام دیا ہے تو بعد از مرگ تمغہ تو سمجھ میں آتا ہے زندگی میں تمغہ اورحکومت کی جانب سے ستائش تو اس صحافی کو مشکوک بناتی ہے کہ اب اسکے قلم اور زبان سے حکومت کی تعریف ہی نکلے گی ، انصار عباسی کا جواب ٹھیک تھا کہ جو کچھ میں کررہا ہوں وہ میری ذمہ داری اور ملازمت ہے اسلئے تمغہ لینے سے معذر ت کرتا ہوں۔ جدہ میں بھی ایک واقع ہوا گزشتہ سال جدہ میں پاکستان کی تعمیراتی اداروں کی نمائش ہوئی، نمائش سے دو ہفتہ قبل تیاری کے دوران منتظمیں نے صحافیوں اور کمیونٹی کے کچھ لوگوں کو ایک عالیشان ہوٹل میں عشائیہ دیا اور وہاں صحافیوں کو تعریفی شیلڈز دیں، جب مجھے اسٹیج پر دعوت دیکر شیلڈ حوالے کی گئی تو میں نے درخواست کی مجھے ایک منٹ مائک پر ملے گا انہوں نے مائک میرے حوالے کیا،میں نے شیلڈ دینے پر انکا شکریہ ادا کیا اورکہاکہ آپکی تقریب دو ہفتہ بعد ہوگی،اس میں کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا مجھے اسکا علم نہیں میں نے کوئی تشہیر یا خبر نہیں چلائی ، مجھے آپ کیوں شیلڈ دے رہے ہیں میں معذرت کرتاہوں اوریہ شیلڈ شکریہ کے ساتھ واپس کرتاہوں اسکے بعد جن صحافی دوستوں نے مجھ سے قبل شیلڈلے لی تھی انہوں نے بھی اپنی اپنی شیلڈز اسٹیج پر آکر واپس کردیں، منتظمین ناراض ہوئے مگر میرا ضمیر مطمین ہوا۔ اسلام آباد کی تقریب میں وزیر اعظم نے تمغہ نہیں لیا جو ایک مستحسن فیصلہ تھا جب ہی تو کہتے ہیں کہ میاں فیملی زندہ باد وہ چاہے میاں نواز شریف ہوں، شہباز شریف یا مریم نواز صاحبہ۔ یہاں مریم نواز صاحبہ سے درخواست ہے کہ پنجاب کے اشتہارات پر ذرا ”ھولہ ہاتھ“رکھیں اوریہ رقم پنجاب کے غریب لوگوں یا بچیوں کی شادی پر خرچ کریں یہ تشہیر کسی اشتہار سے زیادہ ہوگی، ثواب بھی ہوگا ۔ اشتہارت تو ہم کھاتے پیتے لوگ ہی دیکھتے ہیں۔چودہ اگست کے اشتہار میں قائد کی تصویر کی غیر موجودگی پر حکومت اور وزیر اطلاعات نے ”انکوائیری“کا عندیہ دیا ہے، مگر ستر سالوں سے عوام انکوئیریوں کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi























