دسمبر2020 تک ملکی خسارے کو زیرو پر لے آئیں گے:حماد اظہر

وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کے خسارے آج ہم پورے کر رہے ہیں، معیشت کی صحت کا اندازہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے لگایا جا سکتا ہے ،جب یہ حکومت چھوڑ کر گئے تو بیرونی ادائیگیوں کا حجم 10 ارب ڈالر ہو چکا تھا، گزشتہ حکومت گیس کے محکمے کو 160 ارب روپے کے خسارے میں چھوڑ کر گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ سال 10 ارب ڈالر اور اس سال 3 ارب ڈالر واپس کیے، دسمبر 2020 تک ہم ملکی خسارے کو زیرو پر لے کر آئیں گے ،عالمی ادارے پاکستان کی ریٹنگ کو مثبت قرار دے رہے ہیں، معیشت پر بات کر کے پوائنٹ سکورنگ کی جاتی ہے ،گیس،بجلی کی قیمتیں بڑھانا کسی حکومت کے لیے بہتر نہیں ،یہ فیصلے مشکل ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں مہنگائی ہے ،عوام پریشان ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یہ کہتے تھے ہم بڑی اچھی معیشت چھوڑ کر گئےدوسری طرف کہتے ہیں کہ ہم نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کی ، ان کے وزیر خزانہ کو کہنا پڑا کہ پاکستا ن کو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ کی ضرورت ہے۔مصنوعی طور پر کرنسی کو سنبھالنے کے لیے فارن ریزرو میں سے کچھ خرچ نہیں کر رہے ۔انہوں نے سندھ میں گندم کی قلت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے وقت پر گندم نہیں خریدی جس کے باعث سندھ میں قلت پیدا ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں