حیدرآباد اور کوئٹہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ناکام

صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑانے کی سازش ناکام بناتے ہوئے تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ڈی ڈی) کو خفیہ اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے ریلوے ٹریک پر حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنائی گئی۔ گرفتار ملزمان کالعدم تنظیم ایس آر اے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں عامر لطیف چانگ، شعیب چانگ اور شعبان چانگ شامل ہیں۔ ان کے قبضے سے دو ہینڈ گرینیڈ، بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، بال بیئرنگ، نٹ بولٹ، ریموٹ کنٹرول، تاریں اور دیگر غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا۔

سی ڈی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ ملزمان نے پنجاب جانے والے کارگو ٹریلرز پر فائرنگ میں بھی حصہ لیا۔ عامر لطیف چانگ ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کا مرکزی ملزم ہے، جس پر 20 لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا۔ ایس آر اے نیٹ ورک نور چانڈیو کے زیرِ نگرانی کام کر رہا تھا، اور ملزمان نے اس کے کہنے پر دہشت گردی کا منصوبہ بنایا۔ تاہم، 14 اگست کو سخت سکیورٹی کے باعث یہ منصوبہ ناکام رہا۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے بعد مزید گرفتاریوں کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز نے ریلوے اسٹیشن پر خود کش حملے کے منصوبہ ساز اور سہولتکار سمیت تین دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار دہشت گرد جشن آزادی کی تقریبات کے دوران خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، جولائی کے آخری ہفتے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع ملی کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گرد اگست کے آغاز سے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس کے بعد تمام متعلقہ اداروں نے منصوبہ کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں شروع کیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور گرفتار کیا گیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ اسے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے خود کش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔ گرفتار بمبار کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے افنان ٹاؤن سے پروفیسر عثمان قاضی اور ایک اور بمبار کو بھی حراست میں لے لیا۔