یونیورسٹی کی لیکچرر گل لالہ کار سمیت نالہ میں بہہ گئیں

یونیورسٹی کی لیکچرر گل لالہ کار سمیت نالہ میں بہہ گئیں
آزاد کمشیر کے علاقے راولاکوٹ کی پونچھ یونیورسٹی کی لیکچرر ڈاکٹر گل لالہ کار سمیت نالہ تراڑ میں بہہ گئیں۔
پولیس کے مطابق خاتون لیکچرر کی گاڑی نالہ تراڑ میں بند ہوگئی تھی اور پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کے باعث نالے میں بہہ گئی۔
راولاکوٹ کی رہائشی ڈاکٹر گل لالہ کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
اَٹھ مقام کی گریس ویلی میں گاڑی دریائے نیلم میں گرگئی، جس میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق شدید بارش کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو ریسکیو میں مشکلات کا سامنا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi
خبرنامہ نمبر5645/2025
کوئیٹہ 18اگست2025:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) مہراللہ بادینی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) کوئٹہ محمد وقار کاکڑ کے ہمراہ اسپنی روڈ پر واقع سرکاری اراضی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ریونیو اسٹاف نے ڈپٹی کمشنر کو سرکاری اراضی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری زمینوں کی جلد از جلد نشاندہی کی جائے، جہاں تجاوزات یا قبضے موجود ہیں ان کو فوری طور پر ختم کرکے زمینوں کو واگزار کرایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بالخصوص محکمہ لائیوسٹاک کی زمینوں سے تجاوزات کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ کسی کو بھی سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران غیرت کے نام پر 32 ہزار خواتین کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔
ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے صنفی بنیادوں پر تشدد کے خاتمے پر بحث کی تحریک پیش کی گئی۔ جس کے دوران سینیٹر شیری رحمان نے بتایا کہ بلوچستان میں دلخراش واقعات ہوئے جبکہ پچھلے سال 32ہزار سے زائد خواتین کیخلاف جرائم ہوئے۔
غیرت کے نام پر ملک میں ظلم جاری ہے، ملکی سطح پر خواتین پر مظالم کرنیوالوں کو سزائیں دینے کی شرح ایک فیصد بھی نہیں ہے۔شیریٰ رحمان
گھریلو تشدد پر سزا 1.3فیصد ہوا ہے جبکہ 2024 میں 21 ہزار خواتین کے کیسز زیرالتواء ہیں اور یہ اعداد و شمار لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ غیرت کے نام پر مظالم یا گھریلو تشدد کے کیس میں 64 فیصد ملزمان بری ہوئے اور یہ صورتحال پاکستان میں خواتین کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔
ان جرائم میں 5 فیصد سے کم لوگوں کو سزائیں ہورہی ہیں۔ شیریٰ رحمان























