صوابی اور پشاور میں مون سون بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 15 افراد ہلاک

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں کلاؤڈ برسٹ نے شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں متعدد گھر زیرِآب آئے اور 15 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بونیر کے بعد صوابی میں بھی شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دالوڑی گاؤں گدون میں سیلابی ریلے کے نتیجے میں 12 گھر پانی میں ڈوب گئے، جبکہ پہاڑی علاقے میں مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی دیکھنے میں آئی۔ رات سے جاری بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کے سبب نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔

ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے تصدیق کی کہ کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے متعدد گھر تباہ ہو گئے ہیں، انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ ہو چکی ہیں۔ ہری پور اور مردان سے بھی ریسکیو ٹیمیں طلب کی گئی ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے رضاکارانہ طور پر آگے آئیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور چیف سیکرٹری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پشاور میں موسلا دھار بارش نے صدر بازار، کوہاٹی بازار، موچی بازار اور دیگر علاقوں کو زیرِ آب کر دیا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر بارش کے فوراً بعد پشاور میں ریلیف آپریشن شروع کیا گیا، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مکمل طور پر فعال ہیں۔ نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کو یقینی بناتے ہوئے سڑکوں کی کلیئرنس اور شہریوں کی مدد جاری ہے۔ شاہین مسلم ٹاؤن میں سڑکوں سے پانی نکالا گیا اور نالیوں سے کمبل بھی برآمد ہوئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق پشاور کی ٹیمیں نشتر آباد، گلبہار، کوہاٹ روڈ، یونیورسٹی روڈ، پریس کلب روڈ اور حیات آباد سمیت مختلف علاقوں میں تعینات ہیں تاکہ عوام کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ فی الحال 70 سے زائد اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جن کے ساتھ 8 ایمبولینسز، 2 ڈیزاسٹر ریسپانس گاڑیاں اور 6 ڈی واٹرنگ پمپس موجود ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں شہر بھر میں مسلسل پٹرولنگ کر رہی ہیں تاکہ سڑکوں پر جمع پانی نکالا جا سکے اور پانی میں پھنسے شہری اور گاڑیاں محفوظ مقامات تک منتقل ہوں۔ متعدد مقامات پر ڈی واٹرنگ کا عمل جاری ہے اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔