گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ حالیہ دنوں میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ نلتر ایکسپریس وے کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ جانے کے باعث نہ صرف زمینی راستے بند ہوگئے بلکہ علاقے میں موجود تین بجلی گھر بھی بند کر دیے گئے، جس سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نلتر میں پھنسے سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ گووچ نالے میں آنے والے سیلابی ریلے نے دریا ہنزہ نگر کا رخ گورو جگلوٹ کی طرف موڑ دیا، جس کے نتیجے میں کئی مکانات اور ہوٹل پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔
حکومتی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، تاہم خیبر پختونخواہ میں تباہی کی صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ صرف گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 327 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے پانچ اہلکار بھی شامل ہیں جو مہمند میں ریلیف آپریشن کے دوران حادثے کا شکار ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان بونیر میں ہوا جہاں گزشتہ دو دنوں میں 204 افراد لقمہ اجل بنے، 120 زخمی ہوئے جبکہ 50 کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں شانگلہ میں 36، مانسہرہ میں 23، سوات میں 22، باجوڑ میں 21، بٹ گرام میں 15، لوئر دیر میں 5 اور ایبٹ آباد میں ایک بچے کی موت واقع ہوئی۔
انفرا اسٹرکچر کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ درجنوں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے جبکہ سوات اور شانگلہ میں اسکول بھی متاثر ہوئے۔ کے پی حکومت نے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے پی ڈی ایم اے کے لیے ایک ارب روپے اور شاہراہوں و پلوں کی بحالی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے ہیں۔























