جرمنی اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کا پاکستانی حکومت کی جاسوسی کے لیے سرگرم ہونے کا انکشاف

پاکستانی حکومت کی جاسوسی کے لیے جرمنی اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے سرگرم ہونے کا انکشاف، تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور جرمنی پاکستان، بھارت، ایران اور جنوبی کوریا کی حکومتوں کی جاسوسی کرتے تھے۔ جاسوسی کرنے کے لیے سوئس فرم کی ایک مشین استعمال کی گئی جبکہ مذکورہ کمپنی نے خفیہ ایجنسیوں سے کروڑوں ڈالر حاصل کیے۔
واشنگٹن پوسٹ کا سی آئی اے کی دستاویزات سے متعلق رپورٹ میں کہنا ہے کہ امریکا اور جرمنی کی خفیہ ایجنسیوں نےکئی سالوں تک دیگرممالک کی حکومتوں کی جاسوسی کرتی تھیں اور موجودہ صدی کی شروعات تک 120 ممالک کی اہم تین معلومات حاصل کرلی تھی ۔ پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت، ایران،جنوبی امریکا کی حکومتوں کی جاسوسی کی گئی تھی اور جاسوسی کیلئےسوئس فرم کی مشین استعمال کی گئی جبکہ سی آئی اے اورجرمنی کی خفیہ ایجنسی نے معلومات کے حصول کے لئے مشینوں میں ردوبدل بھی کیا، سوئس کمپنی کی جانب سے اپنے کلائنٹس کی معلومات کو افشاں کرنے کے لیے خفیہ اینجنسیوں کی جانب سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے جبکہ چین اورروس سوئس کمپنی پر اعتماد نہیں کرتے تھے اس لئے ان دونوں ممالک نے اس کمپنی کی مشینیں اورآلات استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا۔واضع رہے کہ اس سال دسمبر میں برطانوی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سینئر پاکستانی دفاعی حکام اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے موبائل فونز کو سافٹ ویئر کی مدد سے ہیک کیا گیا ، انکشاف1400افراد کے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد سامنے آیا۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال چوبیس پاکستانی افسران کے موبائل فونز کو اسرائیلی سافٹ ویئر کی مدد سے نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی کمپنی نے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت اسرائیلی اسپائی ویئر سے 2018میں منسلک ہوا تھا، بھارت میں مبینہ طور پر 121واٹس ایپ صارفین کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان میں سے ایک آپریٹر کی شناخت گنگا کے نام سے ہوئی ہے، مذکورہ آپریٹر نے پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش میں موبائل فونز کو نشانہ بنایا۔ مزید بتایا گیا کہ قبل ازیں اسی سافٹ ویئر کے ذریعے جاسوسی کی گئی، وکیلوں اور سیاستدانوں کے واٹس ایپ کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متاثرہ افراد نے مودی کی حکومت کو جاسوسی کا ذمہ دارٹھہرایا تھا۔ ماضی میں امریکہ نے بھی پاکستان میں جاسوسی کی ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں