
طالب علم نے یونیورسٹی ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کرلی
یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کے 24 سالہ طالب علم نے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی ہے، اس کے قریب سے ایک خط بھی برآمد ہوا ہے
فارنزک ٹیم اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد جمع کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا۔
نظام تعلیم سے مایوس ہوکر یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے خودکشی کرلی۔
================
تازہ – الاقوامی خبریں16 اگست ، 2025
بھارت میں نظام تعلیم سے مایوس ہوکر یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے خودکشی کرلی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش کے شہر نوئیڈا کی شاہدرہ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کے 24 سالہ طالب علم نے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی ہے، اس کے قریب سے ایک خط بھی برآمد ہوا ہے۔
فیصل آباد: پسند کی شادی نہ ہونے پر لڑکی، لڑکے نے خودکشی کر لی
پولیس کا کہنا ہے کہ طالب علم کی شناخت شیوام ڈی کے نام سے ہوئی ہے، جو بہار کا رہنے والا ہے، اس کی پھندے سے لٹکی لاش جمعے کے روز ہاسٹل کے کمرے سے ملی ہے، جس کے بعد فارنزک ٹیم اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد جمع کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا۔
طالب علم کے کمرے سے ایک نوٹ بھی برآمد ہوا، جس میں اس نے ذاتی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر لکھا کہ میرے اس فیصلے میں کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔
نوٹ میں مزید لکھا تھا کہ ’’اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو میں مر چکا ہوں۔ میری موت میرا اپنا فیصلہ ہے۔ میں پچھلے ایک سال سے اس کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔‘‘
مظفرگڑھ میں ماموں اور قریبی رشتے دار کی زیادتی کا شکار 16 سالہ لڑکی نے مبینہ خودکشی کرلی
شیوام ڈی نے اپنے خط میں یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ 2 سال سے کلاسز نہیں لے رہا تھا، اس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس کی غیر استعمال شدہ فیس اہلخانہ کو واپس کی جائے، طالب علم نے تحریری نوٹ میں اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی نظام تعلیم پر تنقید بھی کی۔
تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے آنجہانی طالب علم نے لکھا کہ “اگر یہ ملک عظیم بننا چاہتا ہے تو سب سے پہلے نظامِ تعلیم کو درست کرنا ہوگا۔”
دوسری جانب طالب علم کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی نے طویل عرصے تک ان کے بیٹے کی غیر حاضری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi
خبرنامہ نمبر 5611/2025
کوئٹہ16 اگست:ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ شاہ نے کہا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے،اور ان کو اچھی تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ہمارا فرض ہے،حصول علم کی راہ میں رکاوٹ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،جبکہ شعبہ تعلیم میں مثبت اقدامات کے ثمرات کوئٹہ ڈویژن کے دور دراز و دیہی علاقوں تک پہنچنا بھی ضروری ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل ڈائریکوٹریٹ میں بند سکولوں کی دوبارہ بحالی،نئے اساتذہ کی تعیناتی،غیر حاضر اساتذہ و اسٹاف کے خلاف کارروائی،تنخواہ کی کٹھوتی سمیت دیگر تعلیمی اصلاحات و معاملات سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ایڈیشنل ڈویژن ڈائریکٹر عبدالمالک خان کاکڑ،ڈپٹی ڈویژنل ڈائریکٹر (ایڈمن) علی احمد خان خلجی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویژن محمد ہاشم خان درانی،ضلعی آفسر ایجوکیشن کوئٹہ شیر محمد سمالانی،ضلعی ایجوکیشن آفسر پشین فیض اللہ خان کاکڑ،ضلعی ایجوکیشن آفسر قلعہ عبداللہ محمد یوسف زرکون و دیگر آفسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژن ڈائریکٹر سید کلیم اللہ شاہ نے کہا کہ صوبائی سیکرٹری تعلیم اسفند یار خان کاکڑ پورے صوبے کی طرح کوئٹہ ڈویژن میں بھی بند اور غیرفعال سکولوں کو کھولنے اور مستقل بنیادوں پر فعال بنانے کیلئے سنجیدگی سے عمل پیرا ہیں،اور ان کے مطابق اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،ڈویژنل ڈائریکٹر نے کہا کہ اپنی بساط کے مطابق تعلیمی معیار کو بہتر سے بہترین بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں،اس ضمن میں دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مثبت اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے مزید موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ معماران وطن کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا کردار بہت اہمیت اور کلیدی حیثیت کا حامل ہوتا ہے،اس بابت ضروری ہے کہ حصول علم کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے،تاہم دوران اجلاس ایجنڈا کے مطابق تمام ضلعی ایجوکیشن آفسران نے کارکردگی رپورٹ پیش کیا،اور درپیش مشکلات و مسائل سے ڈویژنل ڈائریکٹر کو آگاہی فراہم کی،بعد آزاں ڈویژنل ڈائریکٹر سید کلیم اللہ شاہ کی جانب سے کوئٹہ ڈویژن سے منسلک تمام ضلعی ایجوکیشن آفسران کی حوصلہ افزائی کی گئی اور کو تاکید کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبائی حکومت کے تعلیم دوست وژن کے عین مطابق تعلیمی معیار کو مزید بہتر کیا جائے،اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے مرد و خواتین اساتذہ سمیت غیر تدریسی اسٹاف کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے،تاکہ حصول علم میں آسانی اور مزید اضافہ ہو۔واضح رہے کہ درس و تدریس کے عمل میں مثبت اثرات و نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام سکولوں کی فعالیت اور ان میں بہتری لانے کے لیے اصلاحات اور تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے،جو قابل تحسین اور روشن مستقبل کی نوید ہے۔
خبرنامہ نمبر 5610/2025
تربت 16 اگست:گرمیوں کی تعطیلات کے بعدتربت یونیورسٹی میں کلاسز کا دوبارہ آغاز 18 اگست سے ہوگا تربت یونیورسٹی میں گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام پرکلاسز اورتمام تدریسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز 18 اگست 2025 سے ہو گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تمام طلبہ و طالبات کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مقررہ تاریخ سے باقاعدگی کے ساتھ کلاسز اورتدریسی وغیرنصابی سرگرمیوں میں حاضری یقینی بنائیں گرلز اور بوائز ہاسٹلز 17اگست سے دوبارہ کھول دئیے جائیں گے۔ہاسٹلز میں رہائش پذیر طلبہ و طالبات کی واپسی کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں -بس سروس/ٹرانسپورٹ 18اگست سے اپنے مقررہ روٹس اورشیڈیول کے مطابق بحال ہو گی۔
وزیراعظم آفس
پریس ونگ
اسلام آباد: 16 اگست، 2025.
ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلابی صورتحال، وزیرِ اعظم کی ریسیکیو و ریلیف آپریشن کی خود نگرانی
وزیرِ اعظم کا متاثرہ اضلاع میں امدادی سامان کی ترسیل، لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور لاپتہ افراد کیلئے سرچ آپریشن کو تیز و مؤثر بنانے کیلئے چیئرمین این ڈی ایم سے مسلسل رابطہ قائم
وفاقی وزیر کشمیر و گلت بلتستان نے وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر پورا دن کے پی کے میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی سامان کی ترسیل کی خود نگرانی کی ۔
وزیراعظم کی متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو خیموں، ادویات، فوری طبی امداد اور تمام متعلقہ سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت
وزیرِ اعظم کی متاثرہ و ملحقہ علاقوں کے مکینوں کو موسم کی پیشگی اطلاعات پہنچانے اور ممکنہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے این ڈی ایم اے کو تیار رہنے کی ہدایت.
وزیراعظم کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں سے رابطے مزید مربوط اور انکی ہر قسم کی معاونت کی ہدایت.
وزیراعظم کی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند راستوں کو فوری بحال کرنے کے لئے کارروائی تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی بند شاہراہوں پر پھنسے مسافروں کو جلد از جلد مدد پہنچانے کی ہدایت























