خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ مختلف حادثات اور آفات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 325 سے تجاوز کر گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں قدرتی آفت سے 213 افراد جان سے گئے اور متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ صورتِ حال کے پیش نظر بونیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ مانسہرہ میں بھی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی، جہاں 20 افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ ان میں سے 17 کا تعلق مانسہرہ اور 3 کا تعلق بٹگرام سے تھا۔ باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے 21 جانیں لے لیں، جب کہ کئی گاؤں پانی میں بہہ گئے، مویشی اور گاڑیاں بھی سیلاب میں بہہ گئیں۔

سوات میں دریا میں آئے طوفانی ریلے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گئے۔ مینگورہ میں ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور ریلے رابطہ پلوں تک پہنچ گئے۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھی تباہ کن صورتحال دیکھی گئی، جہاں سیلاب نے دریا پر بنے 6 رابطہ پل بہا دیے۔ مختلف واقعات میں 11 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مظفرآباد میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 جانیں ضائع ہوگئیں۔

گلگت بلتستان میں بھی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے نقصان پہنچایا۔ سکردو میں 5 پل دریا برد ہوگئے جبکہ چلاس کے اوچھار نالے میں متعدد افراد پانی کی نذر ہوگئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے اپنی تازہ ترین ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔ 18 سے 22 اگست کے دوران خیبر پختونخوا کے چترال، دیر، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان، خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، مالاکنڈ، چارسدہ، ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، ہزارہ، پشاور، صوابی، سوات، وزیرستان اور قریبی علاقوں میں معتدل سے تیز بارش ہوسکتی ہے۔ اسی عرصے میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے استور، سکردو، ہنزہ، شگر، باغ، وادی نیلم، مظفرآباد اور گردونواح میں بھی وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔