ریلوے و کڈنی ہل پارک کی زمین پر بنائی گئی تمام عمارتیں، مون گارڈن، الہ دین پارک سے متصل بلڈنگ گرانے کا حکم

تحریر: یاسمین طہٰ

وفاق کو کابینہ میں تبدیلی پر مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے والی سندھ حکومت نے ایک بار پھر وزرا کے قلمدان تبدیل کردئے ہیں سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق سعید غنی سے محکمہ اطلاعات کا قلمدان لے کر انہیں محکمہ تعلیم کا قلمدان دیا گیا ہے جب کہ ان کے پاس محکمہ محنت کی وزارت بھی موجود رہے گی۔ناصر حسین شاہ کو محکمہ اطلاعات کا قلم دان دیا گیا ہے جب کہ ان کے پاس بلدیات و جنگلات کی وزارت بھی موجود رہے گی۔سہیل انور سیال سے اینٹی کرپشن کا چارج واپس لے کر جام اکرام دھاریجو کو محکمہ اینٹی کرپشن کا قلم دان دیا گیا ہے، سہیل انورسیال کے پاس وزیر آب پاشی کا محکمہ بھی موجود ہے۔محکمہ صنعت وتجارت اور امداد باہمی کا قلم دان بھی جام اکرام دھاریجو کے پاس موجود رہے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بہت پہلے وزرا کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرچکے تھے جن میں صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کے متعلق متعدد شکایات پر بلاول بھٹو نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا محکمہ تبدیل کرنے کا بہت پہلے کہا تھا مگر مبینہ طور پرآصف زرداری سے ان کی رضا مندی حاصل کرنے میں وقت لگ گیا۔کہا جاتا ہے کہ صوبے میں یہ تبدیلیاں اس ناراضگی کی ابتدا ہیں جو بلاول بھٹو مختلف اجلاسوں میں صوبائی کابینہ کی کارکردگی کے حوالے سے کرتے رہے ہیں اس لئے توقع کی جارہی ہے کہ صوبائی کابینہ میں مزید تبدیلیاں بھی جلد ہی سننے کو ملیں گی۔سپریم کورٹ نے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، تجاوزات اور زمینوں پر قبضے و دیگر معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران ریلوے و کڈنی ہل پارک کی زمین پر بنائی گئی تمام عمارتیں،مون گارڈن،الہ دین پارک سے متصل بلڈنگ گرانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا کراچی سرکلر ریلوے بحال،تجاوزات مسمار کریں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی کرینگے۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ حکومت سرکلر ریلوے چلانا ہی نہیں چاہتی، تجاوزات کا خاتمہ اور زمین سندھ حکومت کے حوالے کرنا ریلوے کی ذمہ داری تھی،واضع رہے کہ وقفے وقفے سے کراچی میں ناجائز تجاوزات پر اقدامات کئے جاتے ہیں۔

جس کی لپیٹ میں غریبوں کی بستیاں ہی آرہی ہیں،غیر قانونی طور پر بنائے گئے پلازوں اور کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنگلوں میں قائم پوش ریسٹورینٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا جب کہ گزشتہ برس بنگلوں میں قائم کمرشل اداروں پر کاروائی کا حکم دیا گیا تھا لیکن تاحال پو ش علاقوں میں بنگلوں میں قائم اسکولوں کی شاخوں پر بھی کاروائی نہیں کی گئی جو شہر میں شدید ٹریفک جام کا باعث بھی بن رہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امیروں کی عمارتوں پر بھی کروائی ہوتی ہے،کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار کے بعد سندھ حکومت نے تو کوئی ایکشن نہیں لیا،باالآخر سپریم کورٹ نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا جس پرسندھ حکومت نے ظفر احسن کو عہدے سے ہٹا دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ وزیراعلی سندھ تمام کرپٹ اور نااہل افسران کو فارغ کریں اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے معاملات دیکھیں،اور نئے ڈی جی کی تقرری تک چیف سیکرٹری خود معاملات کنٹرول کریں۔ حکومت سندھ اور پاکستان ریلوے نے کراچی سرکلر ریلوے کے تمام زیر التواء مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ شروع کرنے کیلئے وفاق کے زیرانتظام کراچی اربن ٹرانسپورٹ کمپنی اور رائٹ آف وے کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے گا،سی پیک کے حوالے سے مشترکہ رابطہ کمیٹی اپریل 2020 میں بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں اس سرکلر ریلوے منصوبہ کی مالی منظوری دے گی۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے درمیان پیر کو وزیر اعلی ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔کراچی سرکلر ریلوے کے روٹ پر تجاوزات ہٹانے کے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 38 کلومیٹر میں سے 33 کلومیٹر کلیئر ہوچکا ہے اور صرف پانچ کلو میٹر باقی ہے۔ وزیر ریلوے اور وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی سی ریلوے کراچی اور دیگر متعلقہ افسران کے ساتھ کمشنر کراچی کے تحت ایک اور کمیٹی تشکیل دی جو بقیہ حصے سے تجاوزات کو ہٹانے کا لائحہ عمل طے کرے گی- کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر راستہ صاف کرنے اور حکومت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت اور متحدہ کے معاملات پر کوئی پیش رفت نظر نہپیں آرہی ہے۔حکومتی مذاکراتی ٹیم سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی ملاقات میں ایم کیو ایم کی طرف سے ایک بار پھر کراچی پیکج کا معاملہ اٹھایا گیااور بات چیت میں ڈیڈ لاک ختم نہ ہوسکا۔ وزارت منصوبہ بندی میں منعقدہ ملاقات میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر، ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری موجود تھے۔ایم کیو ایم کو وفاق میں اضافی وزارت ملنے کے حوالے سے اسد عمر اور خالد مقبول صدیقی دونوں کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کبھی بات نہیں ہوئی۔جب کہ واقفان حال کا کہنا ہے کہ سارا مسئلہ ہی وزارت اور مشاورت کا ہے۔حکومت نے فیصل سبزواری کو وزیر اعظم کا مشیر اور امین الحق کو وزیر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔کراچی کے علاقے لیاری میں لیاری ایکسپریس وے پر اربن فارسٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 50 لاکھ گھروں اور نوکریوں کا وعدہ کیا لیکن ایک بھی گھر نہیں بنا بلکہ تجاوزات کے نام پر گھر گرادیئے گئے۔بلاول نے آئندہ ماہ سے پورے ملک میں آئی ایم ایف معاہدے کے خلاف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہم لیاری میں پھر سے تاریخ رقم کررہے ہیں اور لیاری کے عوام بھی ہمیشہ تاریخ بناتے ہیں، خوشی ہے کہ اربن فارسٹ منصوبہ لیاری سے شروع ہورہا ہے اور جلد ہی ملیر میں اسی طرح کا ایک منصوبہ شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لیاری میں ہم پیپلز اربن فارسٹ منصوبہ بنارہے ہیں اس میں باکسنگ کا رنگ اور فٹ بال کا میدان بھی ہوگا، سندھ کابینہ اور خاص طور پر سعید غنی کے لئے آئی جی پولیس کلیم اما م کی تقرری زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے،ان کونہ ہٹانے پر،سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاسی مداخلت کرنے والے افسروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔وزیراعلیٰ سید مرادعلی شاہ نے کابینہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو پیشکش کی ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کو آئی جی کے معاملے پر بریفنگ دینے کو تیار ہیں مگر گورنر کے ساتھ مشاورت مناسب نہیں۔واضع رہے کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر سندھ حکومت کو گورنر سندھ سے مشاورت کا کہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ یہ معاملہ متنازعہ بن چکا ہے لہٰذا اس معاملہ میں گورنر کو بیچ میں لانا غیر مناسب ہوگا۔ کابینہ فیصلوں سے متعلق نئے صوبائی وزیراطلاعات وبلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفا قی کا بینہ آئی جی سندھ کے تبا دلے کو متنا زعہ بنا رہی ہے، میرا کلیم اما م کو مفت مشورہ ہے کہ وہ متنا زعہ بننے کے بجا ئے چھٹی پر چلے جا ئیں ان کو کسی کی جا نب سے پیٹھ تھپتھپا نے کے چکر میں نہیں آنا چا ہیے، انکا کریئر ہے اور وہ سینئر افسر ہیں انکے اس عمل سے انکا مستقبل تبا ہ ہو جا ئیگا۔لگتا ہے کہ اس وقت وزارت اطلاعات سندھ کا مکمل فوکس صرف کلیم امام ہیں۔سعید غنی کے بعد ناصر شاہ بھی وہی راگ الاپ رہے ہیں۔جس سے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں