پاکستان میں شادی کرنے کے لیے آپ کو کتنے پیسے چاہیے ہیں؟

پاکستان میں موسمِ سرما کے آغاز سے ہی ’شادیوں کا سیزن‘ شروع ہو جاتا ہے۔ ڈھول، بینڈ باجا، جگمگاتی روشنیاں، دیگیں، ہر گلی محلے میں آپ کو ایسی ہی رونق نظر آنے لگتی ہے۔
ہمارے معاشرے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں جتنی برادریاں ہیں اتنی ہی اقسام کی روایات شادی سے منسلک بھی ہیں۔
مگر ہماری ثقافت میں ایک بہت دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کی شادی کے اخراجات کی کئی سالوں تک منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ بڑی مشکل سے اس موقع پر اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ پاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے پیسہ خرچتے ہیں جیسے یہ سچ مچ ہاتھ کا میل ہے۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں ان مختلف قسم کی شادیوں پر خرچہ ہوتا کتنا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے مختلف طبقات کے تین ایسے جوڑوں سے بات کی جن کی گذشتہ چند ماہ کے دوران شادیاں ہوئی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں جوڑوں کا یہی کہنا تھا کہ شادی کے بڑے اخراجات میں چار اہم ترین خرچے ہوتے ہیں۔ جن میں بارات اور ولیمے کی تقاریب، دلہا دلہن کے کپڑے، زیور، اور دیگر ساز و سامان شامل ہیں۔پہلا بڑا خرچہ: تقاریب
یاسر سروش اور سدرہ وحید نے جب شادی کی منصوبہ بندی شروع کی تو ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی مہندی اور بارات کی تقاریب ملا کر ایک ’شیندی‘ کر لیں گے۔
مگر جب معاملہ خاندان کے سامنے آیا تو انھیں کہا گیا کہ یہ روایت کے مطابق نہیں ہے۔ یاسر اور سدرہ کی شادی کی تقاریب کے سٹیج اور ہال کی تزئین و آرائش دیکھیں تو آپ کو وہ کسی بالی وڈ فلم کے سیٹ سے کم نہیں معلوم ہوں گے۔

’ہمارے بارات اور ولیمے دونوں پر تقریباً پانچ سے چھ لاکھ سجاوٹ پر لگا اور تقریباً 10 سے 11 لاکھ کھانے پر، یعنی کل ملا کر فی تقریب 17 سے 18 لاکھ خرچ ہوا۔‘
اس کے بعد جو مہندی وہ گُل کرنے کے چکر میں تھے، اس پر بھی سجاوٹ اور کھانا ملا کر اضافی دس لاکھ لگ گیا۔ یوں یاسر اور سدرہ کی تقاریب کا کل خرچہ تقریباً 44 سے 45 لاکھ تھا۔
فیضان سعید ایک نجی بینک میں کام کرتے ہیں۔ فیضان اور ان کی نئی دلہن پلوشہ فیضان کا خیال ہے کہ تقاریب میں سب سے مزے دار مہندی کی شام ہوتی ہے۔
اسی لیے انھوں نے مہندی کی شام سجاوٹ پر زیادہ خرچہ کیا اور دوسرے دنوں میں قدرے محدود بجٹ کے ساتھ کام کیا۔ ’ہمارا تینوں تقاریب کا تقریباً 15 لاکھ خرچہ آیا، جس میں آدھا کھانے کا تھا اور آدھا ہال کی سجاوٹ کا۔‘
فیضان کو اپنے کچھ دوستوں کو اس بات پر قائل کرنا پڑا کہ اس موقع پر غیر ضروری اخراجات نہ کریں اور نہ کروائیں۔
’میرے کچھ دوست کہہ رہے تھے کہ بارات کی آمد پر ہم گھوڑے لے کر جاتے ہیں اور ان کا ڈانس کرواتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں!‘نومبر 2019 میں شادی کرنے والے احمد علی اور ان کی نوبیاہتا دلہن ہما ابراہیم کی شادی کی تقاریب قدرے سادہ انداز میں منعقد کی گئیں مگر خاندان، دوستوں اور مہمانوں کے جوش میں کوئی کمی نہیں تھی۔
احمد بتاتے ہیں ’میری مہندی والے دن ہم نے ٹینٹ لگا کر تقریب کی تھی مگر وہاں پر بارش شروع ہو گئی۔ پلیٹوں میں کھانا بھی تھا اور پانی بھی ٹپک رہا تھا۔ پھر قریب میں ہی ہم نے ایک ہمسائے کی مدد لی اور خواتین کو ان کے گھر کے اندر منتقل کر دیا۔‘
اسی طرح ہما بتاتی ہیں کہ ان کی مہندی کے روز ان کی بہنوں کا تو خوشی سے ناچ ناچ کر برا حال ہو گیا تھا۔
احمد اور ہما نے اپنی تقاریب پر کھانے اور سجاوٹ پر کل ملا کر تقریباً چار سے پانچ لاکھ روپے خرچے۔

دوسرا بڑا خرچہ: زیور
یاسر اور سدرہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے گذشتہ برس جنوری سے زیور بنانا شروع کیا تو اس وقت انھیں یہ پریشانی تھی کہ تیزی سے سونے کی قیمت بڑھ رہی تھی۔
یاسر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ تو ان کے ساتھ ایسا بھی ہوا کہ انھوں نے اپنی دلہن کے لیے ایک سونے کا سیٹ چنا ہوا تھا اور گھر والوں کے ساتھ مشورے کے بعد انھوں نے فون پر اس کا آرڈر دیا۔’مگر شاید ہماری بات میں کچھ ابہام رہ گیا تھا۔ اگلے روز جب میں نے فون کیا تو جیولر نے کہا کہ جی سونے کا فی تولہ ریٹ دو سے ڈھائی ہزار بڑھ گیا ہے یعنی آپ کے سیٹ کی قیمت میں کافی فرق آ گیا ہے۔‘
قیمت کے فرق کے باوجود یاسر اور سدرہ کے خاندانوں نے زیورات کی تیاری پر 60 لاکھ روپے تک خرچ کر دیے۔
ادھر پلوشہ کہتی ہیں کہ زیورات پر ان کا خرچ 30 سے 35 لاکھ تک رہا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ’زیور ہم نے ابھی تھوڑی بنایا تھا۔ یہ تو ہمارے امی ابو نے پتا نہیں کب سے لے کر رکھا ہوا تھا۔‘
جگر ان کے کل زیور کا آج کے ریٹ کے حساب سے قیمت کا اندازہ لگایا جائے تو پلوشہ کہتی ہیں کہ ان کا ’کیلکیولیٹر وہاں پھنس جاتا ہے!‘
یاسر، سدرہ اور فیضان اور پلوشہ کے برعکس احمد اور ہما کہتے ہیں کہ زیور کے معاملے میں انھیں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے بس مل کر ہی کر لیا تھا۔ نہ لڑکے والوں نے جہیز کا کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی لڑکی والوں نے کسی زیور کا۔‘
احمد کہتے ہیں کہ ایک جگہ جہاں انھوں نے پھر بھی اپنی دلہن کو زیور دینا ضروری سمجھا وہ منھ دکھائی کا موقع تھا۔ یوں ان کا زیور پر کل خرچ تقریباً ایک لاکھ روپے رہا۔تیسرا بڑا خرچہ: شادی کے ملبوسات
سدرہ کہتی ہیں کہ ’میری بارات کی شام کا جوڑا ہی صرف دس لاکھ روپے کا تھا۔‘
ان کے مطابق انھوں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ ان کی شادی کا جوڑا کتنے کا تھا۔ ’میں یہ سوچ رہی تھی کہ اگر میں نے کسی کو بتایا کہ میں نے شادی کے جوڑے پر کتنے پیسے لگا دیے ہیں تو سب کہیں گے کہ تم پاگل ہو۔‘
جب یاسر اور سدرہ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے شادی کی تقاریب کے لیے دلہا دلہن کے کپڑوں پر کل کتنے پیسے خرچے تو جواب ملا 18 لاکھ تاہم سدرہ نے بتایا کہ اس رقم میں سے 95 فیصد سے زیادہ ان کے ملبوسات پر خرچ ہوئی اور یاسر کہتے ہیں ’میرے کپڑے آپ نہ بھی گنیں تو خیر ہے۔‘

پلوشہ بھی چاہتی تھیں کہ کسی ڈیزائنر سے اپنا شادی کا جوڑا بنوائیں مگر فیضان اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے پلوشہ کو سمجھایا کہ ’دلہن کا جوڑا تم نے زندگی میں ایک مرتبہ پہننا ہے اس پر اتنا خرچہ نہ کرو۔‘
یوں بات کم خرچ ہر ہی ٹل گئی اور ان دونوں کے ملبوسات پر پانچ سے چھ لاکھ روپے ہی خرچ آیا۔
تاہم پلوشہ بھی اس کا کریڈٹ کچھ اس طرح لیتی ہیں، ’دیکھیں میں نے بات مانی نا۔۔۔ اب میں روز اس جوڑے کو الماری میں دیکھتی ہوں کہ کب اسے پہنوں گی۔‘
ہما بھی کہتی ہیں ’شادی پر میری کوشش تھی کہ عروسی جوڑا زیادہ مہنگا نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے خیال رکھا کہ چاہے وہ کپڑوں کی تعداد کم کر دیں مگر کپڑے اچھے لیں۔
’میں نے اپنی شادی کا جوڑا 35 ہزار میں بنوایا تھا مگر اس پر زیادہ کام نہیں کروایا۔ میرے جوتوں پر تقریبآً دس ہزار لگے اور دیگر کپڑوں کو شامل کر کے تقریباً 60 ہزار تک خرچہ ہو گیا۔‘شجاع ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

How much money do you need to get married in Pakistan

اپنا تبصرہ بھیجیں