یورپ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجہ حرارت جان لیوا حد تک بڑھ چکا ہے اور کئی علاقوں میں جنگلاتی آگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔ درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ہائیٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے، جس سے براعظم کے مختلف ممالک میں شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
جنوبی فرانس سے لے کر بالکان کے علاقوں تک ریکارڈ توڑ گرمی نے شہروں کو جھلسا دیا ہے۔ پیر کے روز جنوبی فرانس میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ (109.4 فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔ اسپین کے محکمہ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں درجہ حرارت اس ہفتے 110 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
اٹلی کی وزارت صحت نے بولونیا اور فلورنس سمیت بڑے شہروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ 16 شہروں میں ہائی الرٹ نافذ کیا گیا ہے۔ جنوبی فرانس اور بالکان کے کچھ حصے بھی بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث ریڈ الرٹ پر ہیں۔
برطانیہ کے ادارے کاربن بریف کے مطابق 2025ء یورپ کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ گرم سالوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپ کے زمینی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 2.3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جو عالمی اوسط سے دوگنا ہے اور یہی اضافہ ہیٹ ویو اور جنگلاتی آگ کو شدت دے رہا ہے۔
یورپی فاریسٹ فائر انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک تقریباً 24 لاکھ ایکڑ زمین جل چکی ہے، جو گزشتہ 19 سالوں میں سب سے زیادہ ریکارڈ ہے اور اوسطاً جلنے والے رقبے سے دوگنی ہے۔ یہ اعداد و شمار 2025ء کو یورپ کی تاریخ کا سب سے وسیع جنگلاتی آگ کا سیزن بنا رہے ہیں۔























