ہم اپنی سانسیں تیرے نام کرتے ہیں اے وطن ہم تیری عظمت کو سلام کہتے ہیں

امیر محمد خان ہم اپنی سانسیں تیرے نام کرتے ہیں
اے وطن ہم تیری عظمت کو سلام کہتے ہیں
”آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے یا پاکستان میں کسی بھی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ نعرہ اسوقت گونجا جب برصغیر میں ہندو مسلمان سکھ سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ایک دوسرے سے نفرت کی آگ میں میں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو بھی بخشا نہیں جا رہا تھا۔ ایسے میں جناح نے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ تمام شہریوں کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان میں ہر کوئی محفوظ ہوگا۔یہ ایک انتہائی جراتمندانہ موقف تھا، چونکہ نفرت کے موسم میں نفرت کو بھڑکایا تو جاسکتا ہے مگر رواداری اور برداشت کی بات میرے قائد جیسا لیڈر ہی کرسکتا تھا 78 برس گزر چکے ہیں، اور سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس وعدے کو نبھایا؟ہم نے جغرافیائی آزادی تو حاصل کر لی، لیکن کیا فکری اور سماجی آزادی بھی ہمارے ہاں اسی درجے کی ہے ISPR کا حالیہ ملی نغمہ اسی سوال کو جگاتا ہے۔ جب ایک سپاہی کی آواز میں یہ الفاظ گونجتے ہیں ”تم سب آزاد ہو” یا فیلڈ مارشل کا یہ نعرہ کہ ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد “تو ہمارے ضمیر پر ایک دستک ہوتی ہے۔ آج یہ پاک وطن اپنی زندگی کے 78سال مکمل کرکے 79سال میں داخل ہورہا ہے ہم قائد کی یاد، آزادی کے نغموں میں محو ہوجاتے ہیں مگر یہ خمار بہت ہی چند دن قائم رہتاہے، قائد کے اصولوں کو ہم اپنے نظام زندگی یا نظام حکومت میں لاگو کرنے سے قاصر ہیں۔قائداعظم نے اپنی اسی تقریر میں کرپشن، اقربا پروری اور ذاتی مفاد کے خلاف سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم نے ان برائیوں کو جڑ سے نہ کاٹا تو ریاست کا ڈھانچہ کھوکھلا ہو جائے گا۔ آج ہمارے ادارے، سیاست اور معیشت اسی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ بدعنوانی نے انصاف کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اگر ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کو حقیقت بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگابر صغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ان کے فرمان کے مطابق اتحاد،یقین اور تنظیم کی قوتوں سے لیس ہو کر جدو جہد پاکستان تیز تر کر دی اور صرف سات سال کے مختصر عرصہ میں 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی مملکت کی حیثیت سے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوگیا۔آج ہمارے وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یوم آزادی ہے۔آج پوری پاکستانی قوم اپنی آزادی کا 78واں سال اور 79واں یوم آزادی جوش جذبے اور ایک نئے ولولے کے ساتھ منا رہی ہے۔تحریک پاکستان کے دوران شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔نظریاتی بنیادوں پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام انسانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ماؤنٹ بیٹن واسرائے ہندنے
دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہنشاہ اکبر کی طرح پاکستان کی اقلیتوں سے حسن سلوک اور رواداری کا سبق دینے کی کوشش کی تو قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ شہنشاہ اکبر کا حسن سلوک کل کی بات ہے
ہمیں یہ سبق ہمارے پیغمبر حضرت محمد ؐ نے 1400 سال پہلے دے رکھا ہے۔دو قومی نظریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس ہے۔پاکستان ایک جمہوری اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا۔ اسکے ایجنڈے میں اپنی عوام اپنی سرحدوں پر پر اٹھنے والی میلی آنکھوں کو بے رونق کرنا ہے ہمارا ایجنڈہ اقوام کی مدد کرنا اور عالمی امن کے فروغ میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا شامل ہیں۔ پاکستان کے قیام کا مقصد محض الگ حکومت بنانانہیں تھا بلکہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا تھا جو اپنے ذاتی مفاد کو عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے قربان کر دے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس دور میں اپنی اسلامی تشخص کو نمایاں کر کے دنیا والوں کو بتا سکیں کہ اسلام صرف عقائد وعبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک جامع نظام زندگی ہے جو ہر دور میں ہر ملک کے حالات کے مناسب حال ہے اور بنی نوع انسان کو ترقی کی ان راہوں پر چلنے کے قابل بناتا ہے جو انسان کے شایان شان ہیں …قائد اعظم نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کے طلبہ سے خطاب میں فرمایا تھا،میں نے قرآن مجید اور قوانین اسلام کے مطالعہ کی اپنے طور کوشش کی ہے اس عظیم کتاب میں انسانی زندگی کے ہر باب کے متعلق ہدایات موجود ہیں زندگی کا روحانی پہلو ہو یا معاشرتی ہو یا سیاسی ہو یا معاشی غرض کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو۔آج مملکت کی آزادی کو 78سال گزر چکے ہیں آج بھی وطن عزیز شدید نوعیت کی معاشی مشکلات اور اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔اس معاشی اور طبقاتی فساد نے سماجی فاصلے گہرے کر دیے ہیں زور زبردستی نے ریاستی انتظامی توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔پاکستان خدا کے فضل و کرم سے ایک توانا قوم اور موزوں وسائل معیشت کا ملک ہے۔ اس کے نظریاتی تشخص کے ساتھ نئی نسل کو تحریک پاکستان اور اس کے پس منظر سے آگاہ رکھنا ہم سب کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے!!اگر ہم اپنی نوکر شاہی، اور سیاست دانوں کر کرپشن سے پاک کرسکیں، نوکر شاہی کو اور سیاست دانوں کوقائد کے اصول پڑھکر ان پر عمل کرنے کے پابند کرسکیں تو ملک کی ترقی و استحکام نہیں رک سکتا، ہماری عسکری قیادت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک کی سرحدیں محفوط ہاتھوں میں ہیں،پڑوس میں دہشت گرد ملک ہمارے اندرونی ذرائع سہولت کاروں کے ذریعے جو دہشت گردگی کرا رہا ہے ہمارا عسکری شعبہ اپنے نوجوانوں کی شہادت کی پرواہ کئے بغیر ملک کے اندر کروڑوں عوام کو چین و سکون کی نیند ہونے کا سبب ہے۔ علاقے میں دہشت گرد کے مرتکب ملک نے کشمیر پر قبضہ کررکھا ہے وہ بھی ہمارے سیاست دانوں کی سازشیں ہیں ملک پاکستان نے اپنی وزارت خارجہ کے ذریعے ہر عالمی فورم پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے مگر بات وہ ہی ہے کہ عالمی ادارے اسی کو سنتے ہیں جس سے انکی معیشت جڑی ہو، جہاں انکا فائدہ ہو، ظلم و ستم انکے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا،مئی کے واقعات کے بعد توبھارت کو پاکستان نے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ، جس ملک کی فضائیہ کہ ائر مارشل سردار امر پریت سنگھ جنگ کے تین ماہ بعد یہ انکشاف کرے کہ ہم نے پاکستان کے 6جہاز مارگرائے تھے جب وہ یہ اعلان کررہے تھے اسوقت وہ کچھ لہرا رہے تھے اسلئے اسے ”پی کے امرپریت سنگھ“کا بیان کہا جاسکتا ہے جسطرح بھارتی میڈیا لاہور کی بندرگاہ کو تباہ کرنے کا اعلان کرتا رہا۔ہم ہر سال 14اگست ہو یا قائد اعظم کی یوم پیدائش یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ان کے اصولوں پر اپنا نظام حکومت چلائینگے، چلئے آج پھر اعلان کرلیتے ہیں اپنے قائد کی روح سے قائد کے اصولوں پر چلنے کا وعدہ کرلیتے ہیں مگر اپنے ایمان کے ساتھ، مگر کرپشن میں دھنسے لوگ چودہ اگست کو اعلان کرکے، تصاویر شایع، خبریں شائع کراکر پندرہ اگست کو پھر اپنی روش پر چل پڑینگے جو اس پاک سرزمین سے غداری اور عوام کو ایک مرتبہ پھر بے وقوف بنانے کے علاوہ کچھ نہیں۔
ملی نہیں ہے ہمیں اپنی ارض پاک تحفے میں
لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلے ہیں