
صنعتکار پراپرٹی ٹیکس سمیت صوبائی اداروں کی شکایات دے سکتے ہیں، ریجنل ڈائریکٹرو مشیر صوبائی محتسب شعیب صدیقی
صوبائی محتسب کو شکایات کے نتائج بھگتنے سے صنعتکار گھبراتے ہیں، آگاہی ضروری ہے، صدر کاٹی جنید نقی
کراچی ( ) صوبائی محتسب سندھ کے مشیر اور ریجنل ڈائریکٹر شعیب احمد صدیقی نے کہا ہے کہ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) اور صوبائی محتسب کی مشترکہ کمیٹی سے مسائل تیزی سے حل ہوں گے۔ کاٹی کے پلیٹ فارم سے صنعتکار صوبائی محتسب کو شکایات درج کریں تو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ صنعتکار پراپرٹی ٹیکس سمیت تمام صوبائی اداروں کی شکایات صوبائی محتسب سندھ کو درج کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر جنید نقی، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر اعجاز احمد احمد، نائب صدر طارق حسین، کائیٹ لمیٹڈ کے سی ای او زاہد سعید، سابق چیئرمین احتشام الدین، صوبائی محتسب سندھ کے اسسٹنٹ رجسٹرار عبدالشکور سمیت دیگر اعلی حکام اور ممبران موجود تھے۔ مشیر صوبائی محتسب شعیب احمد صدیقی نے مزید کہا کہ سہیل راجپوت نے چارج سنبھالنے کے بعد عوام میں آگاہی اور مسائل حل کرنے میں تیزی آئی ہے۔ اس وقت صوبے بھر میں 19 ریجنل دفاتر سے سالانہ 9 سے 10 ہزار شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ جس میں 85 فیصد شکایات کو کامیابی سے حل کر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب کا عہدہ ہائی کورٹ کے معزز جج کے مساوی ہے اور وہ سو موٹو ایکشن بھی لینے کی استعداد رکھتے ہیں۔ شعیب صدیقی نے مزید کہا کہ صنعتکار بلا خوف و خطر محتسب سے صوبائی اداروں کے پالیسی مسائل پر شکایات درج کرائیں۔ اس سے قبل کاٹی کے صدر جنید نقی نے کہا کہ صوبائی محتسب کا دائرہ کار سے عوام ناواقف ہے، اس کیلئے آگاہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار انفرادی طور پر شکایات درج کرانے سے گھبراتے ہیں اور اکثریت شکایات کے نتائج بھگتنے سے کتراتے ہیں۔ اس سلسلے میں مشترکہ کمیٹی سے صنعتکاروں کو ہراساں کرنے اور منفی نتائج سے بچایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں آگاہی کیلئے ممبران اور صنعتکاروں کو معلومات فراہم کی جائیں۔ صدر کاٹی نے کہا کہ صوبائی اداروں میں کرپشن اور رشوت عروج پر ہے، کسی بھی ادارے میں معمولی کام کرانے کیلئے بھی بھاری رشوت دینی پڑتی ہے، جس سے سرمایہ کاری پر منفی نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ صوبائی اداروں کے افسران اداروں میں جدت اور ٹیکنالوجی کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے بھی رشوت وصول کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ صنعتکار محتسب کے پاس شکایت درج نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں معاملات اس کے برعکس ہیں، پنجاب میں تمام امور ڈیجیٹل طریقے سے با آسانی ہو جاتے ہیں، افسران کی جانب سے رشوت کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، اسی وجہ سے بے شمار صنعتکار پنجاب سمیت بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے میں کاروبار کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ کاٹی اور صوبائی محتسب کی مشترکہ کمیٹی کے قیام سے کاٹی صنعتکاروں کی شکایات کی پیروی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ میں جمع کردہ 306 ارب میں کراچی کا حصہ 90 فیصد ہے لیکن اس کا فائدہ انڈسٹری کو نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جو ملک کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے اس کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کراچی جو پہلے ایک ترقی یافتہ شہر تھا اب دنیا کا چوتھا آلودہ ترین شہر بن گیا ہے۔ ادارے اپنے فرائض احسن طور پر انجام نہیں دے رہے اور سزا انڈسٹری کو دی جاتی ہے۔ کائیٹ لمیٹڈ کے سی ای او زاہد سعید نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹ 32 ارب ڈالر سے زائد ہے جس میں کراچی کا حصہ 17 ارب سے تجاوز کر چکا ہے۔ صنعتکاروں سے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی مد میں حصہ لیا جاتا ہے ، جس میں کراچی کا حصہ 54 فیصد ہے لیکن شہر کی بہتری پر کچھ بھی خرچ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کو 3 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ سٹی کا درجہ دے کر پزیرائی کی جاتی ہے جو بہت خوش آئند ہے لیکن کورنگی صنعتی زون کی شاہراہ پر موجود مخصوص حصے پر مشتمل انڈسٹریز کی برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے زائد ہے، کیا اس پر کورنگی کی کبھی حوصلہ افزائی ہوئی۔ زاہد سعید نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور دیجیٹایزیشن سے استفادہ حاصل کرنا ناگزیر ہے اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔
فوٹو کیپشن: کاٹی کے صدر جنید نقی اور ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا صوبائی محتسب سندھ کے مشیر اور ریجنل ڈائریکٹر شعیب احمد صدیقی کو شیلڈ پیش کررہے ہیں۔ اعجاز شیخ، سید طارق حسین، زاہد سعید، ماہین سلمان اور عبدالشکور بھی موجود ہیں۔























