پہاڑی سیاحت کے وسیع امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان رانا نے اس بات پر زور دیا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، بہتر رسائی اور اہم پہاڑی مقامات کی تشہیر کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو شامل کرتے ہوئے ایک جامع اور کثیرالجہتی مہم شروع کی جائے۔
ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ ابھی تک بہت حد تک غیر دریافت ہیں۔ یہ علاقے راک کلائمبرز، ایڈونچر کے شوقین، ٹریکنگ کے دلدادہ اور قدرتی حسن کے چاہنے والوں کے لیے بہترین عالمی منزلیں ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ریزورٹس، گیسٹ ہاؤسز اور وزیٹر سینٹرز کی تعمیر پہاڑی سیاحت کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، ویزا پالیسیوں کو آسان بنانا، آن لائن بکنگ کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قائم کرنا اور معلومات کی موثر ترسیل بھی اہم عوامل ہیں۔
گزشتہ دہائی میں پہاڑی سیاحت نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے، لیکن لاجسٹک مسائل اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد محدود رہی ہے۔ آفتاب الرحمان رانا نے کہا کہ پائیدار پہاڑی سیاحت میں سرمایہ کاری نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کرے گی بلکہ نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ پہاڑی علاقوں کی منفرد ثقافتوں اور قدرتی ماحول کے تحفظ اور بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر پہاڑی سیاحت کی ایک ممتاز منزل کے طور پر دوبارہ متعارف کروانے کے لیے بہتر عالمی پوزیشننگ کی ضرورت ہے۔ قیام و طعام، ہائیکنگ ٹریلز، ٹرانسپورٹیشن، ہنگامی خدمات اور معلوماتی مراکز کی فراہمی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کا قیام موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاحوں کے بہتر تجربے کے لیے مقامی کمیونٹیز کو تحفظ فراہم کرنا اور اپنے ثقافتی ورثے کی تشریح میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کمیونٹیز کی صلاحیتوں کی ترقی اور تربیت سے نہ صرف سیاحوں کو بہتر خدمات ملیں گی بلکہ مقامی لوگوں کو سماجی و اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ آفتاب الرحمان نے ہنر مندی کی ترقی اور تکنیکی مہارتوں کے فروغ کے لیے تربیتی مراکز قائم کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق پہاڑی گائیڈز، پورٹرز اور مہمان نوازی کے عملے کی سرٹیفیکیشن سیاحت کے معیار کو بلند کرے گی۔ ان کے مطابق، اگر ان حکمت عملیوں کو کامیابی سے نافذ کیا جائے تو پاکستان عالمی سطح پر پہاڑی سیاحت کا ایک نمایاں مرکز بن سکتا ہے۔
اسی حوالے سے، ٹور آپریٹنگ کمپنی کنکورڈیا ایکسپیڈیشن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر صاحب نور نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں کی معیشت زیادہ تر سیاحوں کی آمد پر منحصر ہے۔ بہتر انفراسٹرکچر مقامی کمیونٹیز کی زندگیوں میں بہتری لا سکتا ہے کیونکہ اس سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کی ترقی سے ان کی ثقافت اور روایات کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں مدد ملے گی۔
مختصراً، پہاڑی سیاحت کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی، انفراسٹرکچر کی بہتری، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خدمات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ ملک کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کو بھی محفوظ رکھا جا سکے گا۔























