دنیا کا پہلا ہیومینائیڈ روبوٹ مال قائم کر دیا گیا

چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بار پھر عالمی برتری حاصل کر لی ہے اور بیجنگ میں دنیا کا پہلا ہیومینائیڈ روبوٹ مال قائم کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ میں ایک منفرد ’روبوٹ مال‘ کھولا گیا ہے جو کار ڈیلرشپ ماڈل پر مبنی ہے۔ یہ مال 4S فارمٹ پر کام کرتا ہے، جہاں ایک جگہ سیل، سروس، اسپیئر پارٹس اور صارفین کی رائے جمع کرنے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ماڈل چین میں کار ڈیلرشپ کے طریقہ کار سے ملتا جلتا ہے اور اب انسان نما روبوٹس کی فروخت کے لیے بھی اپنایا جا رہا ہے۔

اس مال میں یو بی ٹیک روبوٹکس (Ubtech Robotics) اور یونٹری روبوٹکس (Unitree Robotics) سمیت تقریباً 200 کمپنیوں کے 100 سے زائد مختلف قسم کے روبوٹس دستیاب ہیں۔ یہ چار منزلہ عمارت بیجنگ کے ہائی ٹیک ای ٹاؤن (E-Town) ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔

یہاں پر دستیاب روبوٹس کی رینج گھریلو استعمال کے لیے چھوٹے گیجٹ سائز روبوٹس سے لے کر بڑے، جدید اور کئی لاکھ ڈالرز قیمت کے ہیومینائیڈ روبوٹس تک پھیلی ہوئی ہے۔ مال میں کچھ شو پیس روبوٹس بھی رکھے گئے ہیں جن میں انسانی جسامت کا البرٹ آئن اسٹائن ہیومینائیڈ بھی شامل ہے، جس کی قیمت تقریباً 97,000 امریکی ڈالر ہے۔

اس مال میں ایک ریسٹورنٹ بھی ہے جہاں روبوٹ ویٹرز خودکار طریقے سے کھانا پیش کرتے ہیں۔ یہ ریسٹورنٹ چین میں ورلڈ روبوٹ کانفرنس کے دوران شروع کیا گیا تھا، جس کی میزبانی بھی ایک روبوٹ نے کی تھی۔

مال میں صنعتی، میڈیکل، ڈلیوری اور تعلیمی روبوٹس بھی موجود ہیں، جنہیں صارفین نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ بات چیت اور مختلف کام کرنے کی صلاحیتوں کا تجربہ بھی کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مال نہ صرف چین میں بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔