پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے ملتان جانے والی موسی پاک ٹرین رائیونڈ اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ ریلوے حکام کے مطابق حادثہ تیز رفتار ڈرائیونگ کی وجہ سے پیش آیا، جس کی وجہ سے ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ حادثے کے بعد ٹرین کے انجن کو کرین کی مدد سے نکال کر پٹری کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا۔ ریلوے انتظامیہ نے نئے انجن کے ساتھ بوگیاں جوڑ کر ٹرین کو ملتان کے لیے روانہ کر دیا۔
گزشتہ روز پاکستان ریلوے کی دو مسافر ٹرینیں مختلف حادثات کا شکار ہوئیں۔ ایک واقعہ رحیم یار خان کے قریب پیش آیا جہاں عوام ایکسپریس کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ یہ ٹرین پشاور سے کراچی جا رہی تھی اور خان پور سٹی پھاٹک پر حادثے کا شکار ہوئی۔ اس حادثے میں جانی نقصان نہیں ہوا مگر ڈاؤن ٹریک پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل رہی۔
اسی طرح دوسرا واقعہ بلوچستان کے مستونگ کے قریب سپزنڈ میں پیش آیا، جہاں ریلوے ٹریک پر دھماکہ ہوا۔ اس وقت کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی، جس کے باعث چھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دو روز قبل بلوچستان کے سبی علاقے میں بھی ریلوے ٹریک پر دھماکہ ہوا تھا، جو جعفر ایکسپریس کے گزر جانے کے بعد پیش آیا تھا، جس سے ٹرین محفوظ رہی۔ اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
چند روز قبل 4 اگست کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر بھی حملے کی کوشش ہوئی تھی، جب پیر کی صبح کولپور کے قریب ریلوے ٹریک کی صفائی کے لیے بھیجے گئے پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی، جس کے باعث ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روکنا پڑا۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور بعد ازاں ٹریک صاف ہونے پر ٹرین روانہ کر دی گئی۔























