گلگت میں ایک اور افسوسناک لینڈ سلائیڈنگ حادثے میں 8 مقامی رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب برساتی نالے میں پانی کی بحالی کا کام جاری تھا۔ مقامی رضاکار سیلاب سے تباہ شدہ واٹر چینل کی مرمت میں مصروف تھے کہ اچانک مٹی کا ایک بڑا تودہ ان پر آ گرا۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق حالیہ سیلاب نے دنیور نالہ سے دنیور ٹاؤن جانے والی مرکزی پانی کی سپلائی لائن کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔ اتوار کی شب 15 کے قریب مقامی رضاکار، دن کی شدید گرمی کے باعث، شام کے بعد مرمتی کام کے لیے جمع ہوئے۔ دورانِ کام اچانک تودہ گرنے سے تمام رضاکار ملبے تلے دب گئے۔ مقامی آبادی فوری طور پر موقع پر پہنچی اور اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کی کوششیں شروع کیں۔
ریسکیو آپریشن میں بڑی تعداد میں مقامی لوگ شریک ہوئے اور ملبے سے 13 افراد کو نکال کر گلگت اور دنیور کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید لوگ بھی ملبے تلے موجود ہو سکتے ہیں، کیونکہ متاثرہ افراد کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ رات کے وقت تلاش کے عمل میں دشواری کا سامنا رہا۔
یاد رہے کہ 22 جولائی کو بادل پھٹنے سے آنے والے فلیش فلڈ نے دنیور اور سلطان آباد کی وادیوں کو بری طرح متاثر کیا تھا، فصلیں تباہ ہو گئی تھیں اور آبپاشی و پینے کے پانی کا نظام شدید نقصان کا شکار ہوا تھا، جس کے باعث ہزاروں افراد کئی ہفتوں تک پانی سے محروم رہے۔ مقامی افراد نے پانی کی فراہمی بحال نہ ہونے پر احتجاج بھی کیا تھا۔























