غلطی نہیں کی دھوکہ دیا

تحریر:ڈاکٹر سید علی حسن

جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا ہماری تاریخی غلطی تھی، آئندہ ایسا نہیں کریں گے: اسد قیصر
2018 میں حکومت نہیں لینی چاہیے تھی، یہ ہماری بہت بڑی غلطی تھی : اسد قیصر
اسد قیصر کے اس بیان پر ایک انگریزی کی کہاوت یاد آگئی

“Cheating is a choice, not a mistake”.

اسد قیصر صاحب اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔ غلطی وہ کرتا ہے،جس کو معلوم نا ہو کہ اس کے کیا اثرات آسکتے ہیں۔ تحریک انصاف نے غلطی نہیں کی بلکہ قوم کو دھوکہ دیا۔ غلطی اور دھوکے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ غلطی تو انجانے میں ہوتی ہے، اور دھوکہ سوچ سمجھ کر دیا جاتا ہے۔ غلطی میں تو معافی کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن سوچ سمجھ کر دیے گئے دھوکے کی سزا ملتی ہے، جو اب پوری تحریک انصاف بالعموم اور عمران خان بالخصوص بھگت رہے ہیں۔


عمران خان 2013 میں نواز شریف کو خوب لتاڑا کہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ قوم کو بتایا کہ ان دونوں جماعتوں نے سسٹم کو تباہ کردیا ہے۔ یہ صرف دھاندلی سے جیت سکتے ہیں، ہم مغرب کی طرح قانون کی حکمرانی واپس لائیں گے۔ پھر آیا 2018، جس میں آر ٹی ایس بٹھا کر عمران خان کو حکومت دلوائی گئی۔ اس وقت خان صاحب سب اخلاقیات کو بھول چکے تھے کہ دھاندلی سے حاصل ہونے والی حکومت قبول کرکے آپ آئین و قانون کی پاسداری نہیں کرسکیں گے۔ لیکن مجال ہے خان صاحب نے کسی کی سنی ہو۔ وہ تو شیروانی پہننے کے لیے بےتاب تھے۔ الٹا ،حکومت جانے کے بعد، یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ آر ٹی ایس اس لیے بٹھایا گیا کہ تحریک انصاف کی سیٹیں کم جائیں، اور ٹائیگرز نے فوراً مان بھی لیا کیونکہ اب خان صاحب محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ہیشوا اور پیر و مرشد کا روپ بھی دھار چکے تھے۔ اب برصغیر میں مرشد سے اختلاف کتنی گستاخی ہے، اس کا اندازہ انہی کو ہو سکتا جن کا کسی پہنچے ہوئے” مرید” سے پالا پڑا ہو۔ پھر سوال کیا کہ جب معلوم ہو گیا کہ جنرل باجوہ نے آر ٹی ایس بٹھا کر تحریک انصاف کی سیٹیں کم کیں تو پھر 2019 میں آپ کس خدمت کے صلے میں ایکسٹینشن دے رہے تھے۔۔؟۔ اس سوال پر معقول ٹائیگرز خاموش گئے اور دوسرے حسب معمول دانت اور گالیاں نکالتے رہے۔
عمران خان نے 2010 میں جنرل کیانی کی ایکسٹینشن کے وقت پی پی کو خوب لتاڑا تھا، مغرب کی مثالیں دیں کہ فرد کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ ادارے کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی صورت ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے۔ پھر آیا 2019 میں انہوں نے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کیا کیونکہ ان کو اس سب میں مستقبل کا سیاسی فائدہ نظر آرہا تھا۔ لیکن معاملات بگڑ گئے، معاشی حالات قابو سے باہر ہورہے تھے،خارجی پالیسی شدید ناکام ہو چکی تھی،اکثر دوست ممالک ناراض تھے، اور حکومت قائم نا رہ سکی۔ حالانکہ جنرل باجوہ نے 2022 میں بھی حکومت نہیں گرائی، صرف جانور(نیوٹرل) ہو گئے.
اب عمران خان اپنے ووٹرز کے نزدیک معصومیت کا اظہار کررہے ہیں کہ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایکسٹینشن دینا غلطی ہوتا ہے، مجھے کیا معلوم تھا کہ باجوہ ایسا نکلے گا وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی تھی کہ باجوہ کو ایکسٹینشن صرف سیاسی مفادات کے تحت دی گئی۔ پلان یہ تھا کہ جنرل فیض حمید کو نومبر میں آرمی چیف بنا کر، 2023 میں الیکشن اسی طرح چوری کیے جائیں جس طرح 2018 میں کیے گئے، تاکہ مزید پانچ سال مسلط رہ سکیں، لیکن بازی پلٹ گئی۔ فروری 2021 میں ڈسکہ کے ضمنی انتخابات اس کی ریہرسل کرنے کو کوشش کی گئی جس نے اپوزیشن کے کان کھڑے کردیے اور کہ کس طرح الیکشن کمیشن کو ساتھ ملا کر ہارا ہو الیکشن جیتا جاسکتا ہے۔ نا تحریک انصاف نے کسی قانون و اخلاقیات کا پاس رکھا اور نا ان کے سیاسی مخالفین نے۔
بہرحال عمران خان اس بات میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے سپورٹرز کے یہ یقین دلا دیا ہے کہ وہ بہت سیدھے سادھے، معصوم، ایماندار اور صاف دل کے ہیں۔ اس لیے ہر ایک پر بھروسہ کرلیتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد دھوکہ کھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ اصل میں عمران خان صاحب دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے رہے، اور اسی زعم میں کہ میں بہت بڑا کھلاڑی ہوں، دوسروں سے دھوکے کھاتے رہے۔ مجھے یاد ہے جب بھی خان صاحب کی کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی حرکت میڈیا میں آتی تھی تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے ایک جملہ اس کے دفاع میں بولا جاتا تھا جو کہ ہر ٹائیگر کو ازبر ہو گیا
” اخے خان کو سیاست نہیں آتی”
غلطی کی معافی ہو سکتی ہے، دھوکے کی نہیں۔ ان کو دوبارہ موقع ملا، تو وہ دوبارہ الیکشن بھی چوری کریں گے اور ایکسٹینشن بھی دیں گے۔