
اسرائیل کا غزہ پر قبضے کا فیصلہ
ون پوائنٹ
نوید نقوی
استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر واجد خان صاحب کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست اتنا بے رحم ہے کہ اس کی پیچیدگیوں کو دیکھ کر دل لرز اٹھتے ہیں اور دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں دیکھے گئے خواب فضاؤں میں بکھر جاتے ہیں۔ نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپئنز کے جھوٹے دلاسے اور انسانی حقوق کی روشنی یک لخت اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے، یورپ اور امریکہ کے روشن خیال چہروں کی یوکرین کے بارے میں فکرمندی اور عملی امداد سے لے کر ہر طرح کی چیخ و پکار لیکں غزہ، جی ہاں جہاں اس وقت قحط برپا ہے، معصوم فلسطینی بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں اور یہی انسانی حقوق کے علمبردار، نام نہاد روشن چہرے اسرائیل کے قصائی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو روکنے سے قاصر ہیں۔ اسرائیل کے غزہ پر حملے سے پہلے میں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ظالمانہ منصوبوں کو بے نقاب کیا تھا اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ارض مقدس کے آنسو کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا، لیکن آج غزہ واسیوں کے حالات دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ جنگیں ایسے تھوڑی لڑی جاتی ہیں ؟ کیا اقوام متحدہ واقعی ختم ہو چکی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو شٹ اپ کال دے سکے کہ بس بہت ہو گیا، ساٹھ ہزار سے زائد بیگناہوں کو قتل کرنا کوئی مذاق ہے؟ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نوبل پرائز کو حاصل کرنے کے شوق کو دیکھتے ہوئے امید ہوئی تھی کہ شاید غزہ والوں کی آزمائش ختم ہوا چاہتی ہے لیکن جب سے یہ خبر سنی ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے اسرائیلی وزیراعظم کے غلیظ منصوبے کی منظوری دی ہے تو امن کی امید ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل کا غزہ شہر سمیت پوری پٹی پر مکمل قبضے کا حالیہ فیصلہ محض کوئی عسکری حکمت عملی نہیں، بلکہ ایک ایسا غلاظت خیز نالہ ہے جو انسانی بحران کی وادی میں گرتا ہے۔ یہ فلسطینیوں کی جدوجہد، صبر اور امید کی کشتی کو ایسے گرداب میں دھکیل رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں دکھائی دیتی، یاد رہے کہ غزہ ایک چھوٹا سا خطہ ہے۔ غزہ پٹی صرف 41 کلومیٹر لمبی اور اوسط 10 کلومیٹر چوڑی ہے۔ اس کا کل رقبہ 365 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی اسرائیل کے ساتھ 51 کلومیٹر سرحد ہے اور رفح شہر کے قریب مصر کے ساتھ 11 کلومیٹر سرحد ہے۔ آبادی صرف 23 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ مگر عالمی سیاست میں اس کی گونج بہت دکھ بھری ہے۔ یہاں کے معصوم پھول اور کلیاں دہائیوں سے ظالموں کے محاصرے میں پھنسے ہوئے، آگ اور خون کی تیز ہوا میں لرز رہےہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے غزہ کا کوئی بھی ایسا شہری نہیں جس کا کوئی عزیز نہ مارا گیا ہو، اسرائیلی بربریت کے نشان آج وہاں کی ہر گلی، ہر دیوار اور ہر چہرے پر تحریر ہیں۔ ایک ایسی داستان کی صورت میں جو خاموشی کی زبان بولتی ہے۔ اسرائیل کا غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ ایک ایسا خون آشام فیصلہ ہے جو انسانی حقوق کے نام نہاد پہاڑوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ حماس سمیت ہر فلسطینی اس قبضے کے خلاف جی جان سے مزاحمت کرے گا اور ظالم کو مزید نسل کشی کرنے کا جواز مل جائے گا۔ اسرائیل کی اندھا دھند بمباری کی وجہ سے اس علاقے کے مکینوں کے گھر اور خواب دونوں مٹی میں مل رہے ہیں۔ غزہ پر قبضے کا منصوبہ دہائیوں پرانا ہے ستمبر 1992 میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن نے ایک امریکی وفد سے ملاقات میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غزہ سمندر میں غرق ہو جائے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے، چنانچہ ہمیں کوئی حل نکالنا ہو گا۔ اب یہ جواز قائم کر چکے ہیں کہ حماس اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے حالانکہ اسرائیل کے سابقہ جرنیلوں اور موساد چیفس نے امریکی صدر کو جو خط لکھا ہے اس میں یہ صاف کہا گیا ہے کہ حماس مستقبل قریب میں اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے، غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ قصائی وزیراعظم نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا جائے۔ اسرائیل اگر غزہ پر قبضے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اس وقت بھی غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور فلسطین کی فضاؤں پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ نام نہاد قبضہ ایسی آگ ہے جو بنیادی سہولیات سے محروم، صاف پانی اور خوراک کی بندش، بجلی کی پیداوار سے محروم، صحت اور تعلیم سے مکمل محروم، غزہ کے شہریوں کی تباہی کے بعد آزادی کے احساس کو بھی راکھ میں بدل دے گی۔ زندگی کی لطیف خوشبو بھی ظلم کی بدبو میں تبدیل ہوجائے گی، وہاں انسانیت کا وجود سنسان ہو جائے گا۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جنیوا کنونشن کے اصولوں کی روشنی میں شہریوں کا تحفظ لازم ہے، مگر جب فوجی حکمت عملی عام انسانوں کو ایک بے نور سرنگ میں دھکیلتی ہے تو انسانیت کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔ آج غزہ کی ہر گلی میں نوحہ بپا ہے۔ ہر گھر میں اندھیرا ہے۔ لیکن اہل غزہ مضبوط چٹان کی طرح، مستقبل روشن ہے کی امید دلوں میں سجائے بڑے حوصلے سے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان سمیت عالمی برادری ایک کٹھن راستے پر کھڑی ہے۔ کیا وہ صرف احتجاج کے کاغذ ہی ہواؤں میں اڑاتے رہیں گے؟ یا ظلم کی اس آگ کو بجھانے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں گے؟ ۔یہ سوال بھی دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑتا ہے کہ عالمی طاقتیں کس حد تک انسانی ہمدردی کو جغرافیائی سیاست پر ترجیح دیں گی؟ فلسطینی عوام کی فلاح کی کشتی کو سیاست کے طوفانوں میں ڈوبنے سے بچانا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ غزہ کی زمین پر جاری یہ المیہ ہمارے ضمیر کو جھنجوڑ رہا ہے۔ کیا ہم ان بے سہارا خاندانوں کی حالت کو سمجھنے کی جرات کریں گے؟ جو روزانہ خوف کے سایوں میں اپنی بقا کی کشتی کو سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں؟ یہ قبضہ صرف فلسطین کیلئے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک امتحان ہے۔ ہمیں سیاسی بحثوں سے بالاتر ہو کر انسانیت اور انصاف کے علمبردار بن کر ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے عوام اسرائیل کی بربریت کے آگے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مضبوط ڈھال بن کر کھڑے ہو جائیں۔ اگر یہ قبضہ عمل میں آتا ہے تو یہ نہ صرف فلسطینیوں کی زندگیوں کا چراغ بجھا دے گا بلکہ انسانیت کی بنیادی اقدار کو بھی جلا کر بھسم کر دے گا۔ ہماری حکومت کو بھی نا جائز صیہونی ریاست کے اس ظلم کیخلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور اہل غزہ کی امیدوں کے چراغ کو روشن رکھنا ہوگا کہ ایک دن یہ خطہ امن کی روشنی سے تابناک ہو جائیگا۔ غزہ پر چھایا ظلم و ستم کا بادل صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ ہے جو ہمیں ایک ایسی روشنی کی تلاش پر مجبور کرتا ہے جو ہر ظلم کی سیاہ ترین رات کو چیر دے۔ غزہ پر اسرائیل کے قبضے کا اعلان صرف فلسطین پر نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے دل پر وار ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب خالی بیانات، اجلاسوں اور مذمتی قراردادوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اب وقت ہے کہ مسلمان حکمران اپنی کرسیوں کے آرام اور محلات کے سکون دہ ماحول سے نکل کر میدانِ عمل میں اتریں۔ جدید اسلحے اور دولت کے انبار اگر بیت المقدس اور غزہ کی آزادی کیلئے نہیں، تو پھر ا ن کی حیثیت صرف زنجیر کی طرح ہے جو ہماری گردنوں میں پڑی ہے۔ ہم مسلمان اگر آج بھی خاموش رہے تو تاریخ ہمیں بزدلوں اور غداروں میں لکھے گی اور آنے والی نسلیں ہمیں لعنت کے سوا کچھ نہ دیں گی۔
Load/Hide Comments























