پاکستان ریلوے کی دو مسافر ٹرینیں حادثات کا شکار

پاکستان ریلوے کی دو مسافر ٹرینیں الگ الگ حادثات کا شکار ہو گئیں۔ پہلی واردات رحیم یار خان کے قریب پیش آئی، جہاں پشاور سے کراچی جانے والی عوام ایکسپریس خان پور سٹی پھاٹک پر پٹری سے اتر گئی۔ اس حادثے میں ٹرین کی تین بوگیاں متاثر ہوئیں، جنہیں بعد ازاں ٹرین سے علیحدہ کر دیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق حادثے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کے باعث ڈاؤن ٹریک پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے، مگر حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک جلد بحال کر دیا جائے گا۔

دوسرا واقعہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے سپزنڈ میں پیش آیا، جہاں ریلوے ٹریک پر دھماکہ ہوا۔ اس وقت کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی، جو دھماکے کی زد میں آ گئی اور اس کی چھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ محض دو روز قبل بلوچستان کے سبی علاقے میں بھی ریلوے ٹریک پر دھماکہ ہوا تھا۔ یہ دھماکہ جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے فوراً بعد ہوا، جس کے باعث ٹرین کسی نقصان سے محفوظ رہی۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

مزید برآں، چند دن پہلے یعنی 4 اگست کو بھی جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پیر کی صبح کولپور کے قریب ٹریک کی جانچ کے لیے بھیجے گئے پائلٹ انجن پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس سے انجن کو پانچ گولیاں لگیں۔ واقعے کے نتیجے میں ڈرائیور اور عملہ محفوظ رہا اور انجن کو دوزان اسٹیشن پہنچا دیا گیا۔ بعد ازاں ٹریک کلیئرنس کے بعد جعفر ایکسپریس اپنی منزل کی جانب روانہ کر دی گئی۔ ریلوے حکام کے مطابق پائلٹ انجن بھیجنے کا مقصد کسی ممکنہ تخریب کاری سے پہلے ٹریک کو چیک کرنا ہوتا ہے۔