پاکستان کی خطرناک ترین پروازوں کی وضاحت!


پاکستان کی خطرناک ترین پروازوں کی وضاحت!

پاکستان کی خطرناک ترین پروازوں کی وضاحت!
Pakistan’s Most Dangerous Flights Explained!

پاکستان کی خطرناک ترین پروازیں: خوبصورتی کے پیچھے چھپا خطرہ

پاکستان کے شمالی علاقوں کی پروازیں دنیا بھر میں اپنے خطرناک اور دل دہلا دینے والے مناظر کے لیے مشہور ہیں۔ یہاں کے ہوائی اڈے نہ صرف خوبصورتی کی علامت ہیں بلکہ ہر پرواز ایک نئی جنگ اور امتحان بن جاتی ہے۔

گلگت، سکردو اور چترال جیسے مقامات تک پروازیں کرنا کسی سیاح کے خواب جیسا تو ہے، لیکن کیا یہ پروازیں محض سیاحوں کے لیے ایک خواب ہیں یا ہر پرواز ایک نئی آزمائش ہے؟ ایک یوٹیوب ویڈیو میں ان خطرناک پروازوں کے پیچھے چھپے ان دیکھے خطرات، مشکل راستوں اور حقیقی کہانیوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہیں سنی ہوں گی۔

سکردو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کرتے وقت جہاز کو پہاڑوں کے درمیان انتہائی تنگ موڑ لینا پڑتا ہے، جہاں ایک لمحے کی تاخیر سینکڑوں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پائلٹس کا اعتراف ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے خطرناک لینڈنگز میں سے ایک ہے۔ اگر موخر خراب ہو، بادل نیچے ہوں یا پائلٹ کو راستہ نظر نہ آئے، تو جہاز کو واپس اسلام آباد جانا پڑتا ہے۔

ان پروازوں کو “ویزیول فلائٹ رولز” (VFR) کے تحت چلایا جاتا ہے، یعنی پائلٹ کو ہر حال میں پہاڑوں کو دیکھ کر ان سے فاصلہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اگر جہاز اتنی بلندی پر چلا جائے کہ پہاڑوں سے اوپر ہو اور پھر ہوائی اڈہ نظر آئے، تو ہی لینڈنگ کی کوشش کی جاتی ہے۔

سکردو ایئرپورٹ کے ایک سابق مینیجر کے مطابق، وہاں کے موسم کے باعث اکثر پروازیں منسوخ ہو جاتی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مسافر اسلام آباد سے روانہ ہوئے، لیکن راستے میں ہی واپس لوٹ آئے۔ سردیوں میں گلگت اور چترال کی پروازیں صرف صاف موسم میں ہی ممکن ہوتی ہیں۔

ان راستوں پر اڑنے والے پائلٹس کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ وہ انجن کنٹرول، طیارے کی رفتار اور مشکل موسم میں فیصلہ سازی میں ماہر ہوتے ہیں۔ یہ کوئی عام پرواز نہیں، بلکہ زندگی اور موت کا امتحان ہے۔

کئی مسافروں نے بتایا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے جہاز پہاڑوں سے ٹکرا جائے گا، لیکن اللہ کے فضل سے ایسا نہیں ہوتا۔ یہ پروازیں پاکستان کے خوبصورت ترین مقامات تک لے جاتی ہیں، لیکن ہر پرواز کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی وابستہ ہوتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی ایسی پرواز میں سفر کیا ہے؟ یا آپ ان خطرناک لیکن خوبصورت مقامات تک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ اگر ویڈیو پسند آئے تو چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکون کو ضرور دبائیں۔

اللہ حافظ!
======================

خبرنامہ نمبر5424/2025
کوئٹہ 8 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سانحہ 8 اگست 2016 کوئٹہ کے شہید وکلاءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ہمیں انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خلاف وکلاءکی بے مثال قربانی یاد دلاتا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سول اہسپتال حملے کے شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہماری حکومت شہداءکے خون کی حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداءکے وارثوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کیا جائے گا انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امن دشمنوں کے ناپاک عزائم کو پوری قوم کے اتحاد سے شکست دی جائے گی بلوچستان بار اور وکلاء برادری کی قربانی جمہوری اقدار کی سربلندی کی ایک روشن مثال ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سانحہ میں وکلاء برادری نے اپنے محافظ کھو دیئے، لیکن حکومت نے ان کے بچوں کا ساتھ دیا تاکہ وہ دوبارہ سنبھل کر آگے بڑھ سکیں۔ اس سلسلے میں بیف وکلاء اسکالرشپ اسکیم شہداء کے بچوں کے لیے امید، انصاف اور تعلیم کا وعدہ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 188 بچے مکمل اسکالرشپ کے تحت اپنی پسند کے تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف مالی امداد نہیں بلکہ شہداءکی وراثت اور آئندہ نسلوں سے کیا گیا ایک پختہ عہد ہے کہ ان کے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5425/2025
کوئٹہ، 8 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں مختلف عوامی وفود اور علاقائی عمائدین سے ملے وزیر اعلیٰ نے تمام وفود کے مسائل، شکایات اور تجاویز توجہ سے سنیں اور بیشتر مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو واضح اور فوری ہدایات جاری کیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے کسی بھی ضلع، تحصیل یا گاو¿ں کے عوامی مسائل حکومت کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتے حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل اور ان کو ان کا حق دلانے کے لیے ہر سطح پر کام کر رہی ہے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے عوام کو بااختیار بنانا اور ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانا ہی حکومت کا اصل ہدف ہے انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے دروازے عوام کے لیے کھلے ہیں عوام سے میرا رشتہ نمائندے اور ووٹر کا نہیں بلکہ خدمت گزار اور محسن کا ہے اور یہ رشتہ میری سیاست کی بنیاد ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے عزم ظاہر کیا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رکے گا نہیں، ہر ضلع اور ہر باسی کو مساوی سہولتیں اور مواقع فراہم کیے جائیں گے اور کوئی شہری اپنے حق کے لیے در بدر نہیں پھرے گا اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون خان وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اسٹاف افسران زاہد حسین بگٹی , سید امین، پرویز ، حسن علی و دیگر نے عوام کی رہنمائی و معاونت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کی پیش رفت پر وفود کی رہنمائی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5426/2025
کوئٹہ، 8 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار اور فلاحی ادارے کے سربراہ پیٹر ارشد نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور بین المذاہب اتحاد کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا سنجے کمار اور پیٹر ارشد نے وزیر اعلیٰ کو اقلیتی یوم کی مناسبت سے صوبے میں منعقد ہونے والے مجوزہ پروگرامز کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں اور انہیں ان تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت دی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں صوبے کے ترقیاتی عمل اور سماجی ہم آہنگی کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی یوم کی تقریبات نہ صرف یکجہتی کا پیغام دیں گی بلکہ یہ صوبے میں برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کا عملی مظاہرہ بھی ہوں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿