ایرانی صدر کا دورہ پاکستان اور عالمی چیلنجز


ون پوائنٹ
نوید نقوی
==========

دنیا بھر میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان اور ایران جیسے ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ باہمی ترقی، تجارت اور ثقافت کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ایسے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورۂ پاکستان ایک نہایت خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ ہماری جنگ رکی ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی اور مودی حکومت اندرون و بیرون ملک ہونے والی سبکی کو مٹانے کے لیے کوئی بھی فالس فلیگ آپریشن کر سکتی ہے، جس کا نتیجہ ایک کھلی جنگ کی صورت میں نکلے گا اور پھر صدر ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما بھی سیز فائر نہیں کروا سکیں گے۔ اس صورت میں جبکہ مشرق سے ایک بڑا خطرہ ہمیشہ منڈلا رہا ہے تو ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ہماری حکومت نے گرمجوشی سے نہ صرف ویلکم کیا بلکہ متعدد معاہدے بھی کیے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان کی پاکستانی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، سرحدی امور، توانائی کے شعبے میں تعاون، تجارت اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی روابط، ثقافتی تبادلے اور اقتصادی اشتراک کو مزید فروغ دیا جائے۔ دونوں ممالک کو اچھی طرح آگاہی ہو چکی ہے کہ ان کے درمیان سرحدی تعاون اور سیکیورٹی امور پر یک جہتی ناگزیر ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایران کے سیستان و بلوچستان کے درمیان بارڈر سیکیورٹی اور اسمگلنگ کے مسئلے پر بھی کھل کر گفتگو ہوئی ہے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحدی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دہشت گردی، اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ IPI ایک عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ اس دورے میں دونوں رہنماؤں نے اس منصوبے کو از سر نو فعال بنانے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ ایران نے پاکستان کو توانائی کی ضروریات کے لیے مدد دینے کی پیشکش کی، جبکہ پاکستان نے ایران سے زرعی اور صنعتی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایران کو جون میں ہونے والی بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان کی فوجی برتری، ٹیکنالوجی میں جدت اور جنگی مہارت کا ادراک ہو گیا ہے، اس لیے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو فروغ دینا خود ایران کے مفاد میں ہے، پاکستان پچیس کروڑ آبادی پر مشتمل دنیا کا ایک بڑا ملک ہے، یہاں ایرانی تاجروں کے لیے ایک بڑی منڈی اور سستی لیبر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کے مشرقی اور مغربی دونوں ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، اس لیے ایران کے ساتھ دفاعی ، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنا پاکستان کے فائدے میں ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ثقافتی و مذہبی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ امام بارگاہیں، مزارات اور فارسی زبان کا مشترکہ ورثہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک روحانی رشتے میں جوڑتا ہے۔ اس دورے میں ان پہلوؤں پر بھی زور دیا گیا کہ ادب، تعلیم، سیاحت اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں سفارتی گرمجوشی اور تعاون کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ اگر اس دورے میں طے پانے والے معاہدے اور باہمی سمجھوتے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو نہ صرف دونوں ممالک مستفید ہوں گے بلکہ پورے خطے میں ترقی، امن اور استحکام کو فروغ ملے گا۔