سرکاری ٹی وی کرپشن کیس،ایک گواہ کا بیان ریکارڈ، 4 آئندہ سماعت پر طلب

سپیشل جج سنٹرل کامران بشارت مفتی نے سرکاری ٹی وی کرپشن کیس میں سابق ایم ڈی ڈاکٹر شاہد مسعود کیخلاف ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے مزید 4 گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ، سماعت کے دوران ڈاکٹرشاہد مسعود عدالت پیش ہوئے اس موقع پرگواہ پرویز خان نے کہا کہ 2008 میں پشاور میں کنٹرولر ایڈمن تھا ، ڈاکٹر شاہد مسعود کی بطور ایم ڈی تعیناتی ہوئی ، وکیل سرکاری ٹی وی کی بار بار مداخلت پرعدالت نے کہا کیا آپکو اپنے گواہ پر یقین نہیں ، آپکا گواہ ہے اسے نہیں پتہ کیا اس نے بیان دینا ہے ، ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ہمارے پاس بہت کچھ ہے لیکن ملکی مفاد میں کچھ نہیں دے سکتے ، گواہ نے کہا کہ کاشف ربابی نے ایک سمری تیار کی جس میں یو اے ای کو میڈیا رائٹس کیلئے 70 لاکھ دینے تھے ، عدالت نے دستاویزات اور چیک کی کاپیاں اوریجنل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر صاحب یہ آپکی نالائقی ہے دستاویزات پورے نہیں اور آپ گواہ کا بیان ریکارڈ کروانے آگئے ہیں ،3 سے 4 پیشیوں سے آپ سے مکمل نہیں ہو پا رہے ، آپکے پاس صرف کمپلینٹس کے علاوہ اوریجنل اور کوئی دستاویزات نہیں ، ایف آئی اے پراسیکیوٹرنے کہا کمپلینٹس کے علاوہ اور کوئی چیز اس وقت موجود نہیں ، ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ70 دن ہتھکڑیاں
لگا کر عدالت میں پیش کرتے رہے ہیں ، اس کیخلاف ہرجانے کا دعوی کرینگے ، 3 سوالات کرنا چاہتا ہوں ، میں نے سرکاری ٹی وی میں کرپشن کی ہے جس پر گواہ نے کہا کہ نہیں ، شاہد مسعود نے کہا کبھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس پر گواہ نے کہا کہ نہیں ، شاہد مسعود نے پوچھا کہ کبھی کسی کمپنی سے کوئی پیسے لئے ہیں گواہ پرویز نے کہا کہ نہیں ، وکیل صفائی نے پو چھاکہ جو آپ نے الزامات لگائے ہیں کیا وہ شاہد مسعود کے کہنے پر ہوا جس پر گواہ نے کہا کہ نہیں میں نے ایسا بالکل نہیں کہا کہ شاہد مسعود کے کہنے پر کیا گیا صرف تفتیش کا کہا ، دیگر شریک ملزمان کے وکلا کی طرف سے بیان پر جرح کیلئے مہلت کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ مزید اور کون کون گواہ ہیں جس پر سرکاری ٹی وی کے وکیل نے کہا کہ 2،3 گواہ مزید اور ہیں جن میں یوسف بیگ مزرا ، احسان قادر ، غلام رسول اورساجد اختر شامل ہیں جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر باقی تمام گواہوں کو بلا لیا جائے اور کیس کی سماعت24 فروری تک ملتوی کر دی

اپنا تبصرہ بھیجیں