غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے بلا روک ٹوک جاری ہیں، جن میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 150 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق ان شہداء میں ایسے 90 فلسطینی بھی شامل ہیں جو امداد کے منتظر تھے۔ فلسطینی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان، سلیمان العبید، بھی کھانے کی تلاش میں اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں مختلف کھیلوں کے کم از کم 662 فلسطینی کھلاڑی شہید ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، اسرائیلی فوج نے امدادی قافلوں کو نشانہ بنایا اور ان کی گاڑیوں کو بمباری کے ذریعے تباہ کر کے راستوں سے ہٹا دیا۔ اس واقعے میں 20 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے جب امدادی ٹرک اُلٹ گئے۔
میڈیا نے بتایا ہے کہ غذائی قلت کی شدت کے باعث اب تک 96 بچوں سمیت 193 فلسطینی اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
دوسری جانب، عالمی برادری میں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند ہوتی جا رہی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ غزہ کو چند امدادی ٹرکوں کی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
یورپی کمیشن کی نائب صدر نے غزہ پر اسرائیل کے مکمل کنٹرول کے ارادے کو شدید ناپسندیدہ اور تشویشناک قرار دیا ہے۔























