
ٹرسٹی شپ کونسل کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کی کوشش خوش آئند ہوسکتی ہے
جامعہ این ای ڈی: یومِ استحصالِ کشمیر کے سیمینار میں سابق سفارتکار حسن حبیب، ڈاکٹر مونس احمر، ڈاکٹر شائستہ تبسم، ڈاکٹر نعمان احمد اور ڈاکٹر محمد عامر قریشی کا خطاب
کراچی () جامعہ این ای ڈی کے شعبہ یونی ورسٹی ایڈوانسمنٹ اینڈ فنانشل اسسٹنس(یوفا) کے تحت یومِ استحصالِ کشمیر کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس کے استقبالیہ سے ڈائریکٹر یوفا ڈاکٹر محمد عامر قریشی نے خطاب کیا اور میزبانی کے فرائض ندا آفتاب نے انجام دیئے۔ جامعہ کی ترجمان فروا حسن کے مطابق اس سیمینار میں کشمیر سے آۓ طالب علموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جب کہ پریزینٹیشن اور نغمے ” میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔ ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن” پیش کیے جانے پر ہر آنکھ نم دیدہ تھی۔ اس موقعے پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوۓ شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد طفیل کا کہنا تھا کہ بھارت یوں تو خود کو جمہوریت کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے۔ لیکن مقبوضہ کشمیر پر بھارتی جارحیت کے باعث وہاں کے رہنے والوں کے لیے ہر دن ہی یومِ استحصال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔ طالب علموں سے خطاب کرتے ہوۓ سابقہ سفارت کار حسن حبیب کا کہنا تھاکہ ہمیں پہلے پاکستان کے معاملات کو بہتر کرنے کا سوچنا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حل نہ نکالا گیا تو پاکستان کے سو سال مکمل ہونے پر بھی ہم یونہی یومِ استحصال منارہے ہوں گے۔میریٹوریس پروفیسر/ سابقہ ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر مونس احمر کا کہنا تھاکہ بھارت پچھلے 78 برسوں سے کشمیر پر ظلم کررہاہے لیکن اب تک حالات پر قابو نہ پاسکا۔ ٹرسٹی شپ کونسل کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کی طرف جانا خوش آئند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید زُور دیا کہ بھارت 5 پوائنٹ ایجنڈا کے تحت دس سال کے لیے بارڈر پر نرمی کرے، تجارت کے لیے راستے کھولے جائیں، افراد کی بھارت پاکستان کے مابین آمدورفت کھولی جاۓ، تب کشمیریوں سے سوال کیا جاۓ کہ وہ پاکستان کا ساتھ چاہتے ہیں یا بھارت کا۔ ڈاکٹر شائستہ تبسم نے طالب علموں کو پس منظر بتاتے ہوۓ کہا کہ پانچ اگست 2019ء کو بھارت کی ہندو انتہاپسند حکومت نے مسئلہ کشمیر کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے آخری حربے کے طور بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے منسوخ کرکے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور اسے مرکز کے تحت دو حصوں میں تقسیم کرکے “یونین ٹیریٹریز” میں تبدیل کرنے کا قانون پاس کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دن کشمیر کی تاریخ کے بھیانک دنوں میں سے ایک دن ہے۔ سیمینار کے اختتام پر پرووائس چانسلر ڈاکٹر نعمان احمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ سوینرز تقسیم کیے اور سیمینار کے انعقاد پر ٹیم یوفا کی کوششوں کو سراہا۔























