یوکے پکڑ دھکڑ بھاری جرمانے


یوکے پکڑ دھکڑ بھاری جرمانے

UK 2 Desi Restaurant Raid 5 Arrested Heavy Fine یوکے پکڑ دھکڑ بھاری جرمانے

یوکے میں دو دیسی ریستورانوں پر چھاپے، 5 گرفتار، مالکان پر بھاری جرمانے

خبر:
یوکے میں دو دیسی ریستورانوں پر ہوم آفس کے اہلکاروں نے چھاپے مارے ہیں جس کے نتیجے میں 5 غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ملازمین گرفتار ہوئے ہیں۔ ریستوران کے مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں، جن کی رقم لاکھوں پاؤنڈز تک بتائی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، لندن کے الفر لین میں واقع “وطن ریستوران” اور سلو ایریا کے “ایگزوٹک کڑاہی” پر چھاپے مارے گئے۔ ایگزوٹک کڑاہی کے مالک اندرپال روہا پر 90,000 پاؤنڈ (تقریباً 3 کروڑ 38 لاکھ روپے) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے دو ملازمین میں سے ایک خاتون کا ویزہ 2011 میں ختم ہو چکا تھا، جبکہ دوسرے ملازم نے دعویٰ کیا کہ اس نے ویزہ اپلیکیشن لگائی ہوئی ہے، لیکن اسے قانونی حیثیت نہیں ملی۔

دوسرے ریستوران “وطن” میں تین غیر قانونی ملازمین (دو افغان اور ایک پاکستانی) پکڑے گئے۔ مالک بسم اللہ پر بھی ہر ملازم کے حساب سے 40,000 پاؤنڈ کے جرمانے کا امکان ہے، جو مجموعی طور پر 1 لاکھ سے 1 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ تک ہو سکتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، یوکے میں کئی دیسی ریستوران اور کاروبار غیر قانونی ملازمین رکھتے ہیں اور ان کا مالی استحصال کرتے ہیں۔ اکثر طلبا اور کم آمدنی والے افراد کو کم اجرت یا بغیر معاوضے کے کام پر رکھا جاتا ہے۔ اب مقامی لوگ اور متاثرہ ملازمین شکایات کر رہے ہیں، جس کے بعد ہوم آفس کی کارروائیاں تیز ہوئی ہیں۔

=======================

پریس ریلیز

گلگت، پاکستان – 5 اگست 2025: : پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) گلگت نے آج یوم استحصال کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

سیمینار کا مقصد بھارت کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں بھارت کی طرف سے جاری مظالم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور تنازعہ کشمیر پر پاکستان کے غیر متزلزل موقف پر زور دینا تھا۔ اس تقریب میں سرکاری افسران، ماہرین تعلیم، میڈیا پروفیشنلز، اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی، سبھی کشمیری عوام اور حق خودارادیت کے لیے ان کی جاری جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کے لیے اکٹھے ہوئے۔

سیمینار کا آغاز اس دن کی تاریخی اہمیت پر گفتگو سے ہوا سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیدار گلگت بلتستان اسمبلی شہناز بھٹو ، سیئر صحافی انور حسین نہال ، صحافی طاہر یوسف ، ملک ضیاء اور دیگر مقررین نے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے ایک غیر قانونی اور غیر آئینی قدم اٹھایا، جس نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا۔ یہ یکطرفہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی تھی اور اس کے نتیجے میں کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سیمینار میں ہندوستان کے اقدامات کے قانونی مضمرات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ بات چیت کا مرکز اس بات پر تھا کہ کس طرح آرٹیکل 370 کی منسوخی بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متصادم ہے جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے اس بات کو تقویت ملی کہ بھارت کا یہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سیمینار کے دوران IIOJK میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے جاری فوجی جبر، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور بھارتی قبضے میں کشمیری عوام کو درپیش انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری کو خطے میں سنگین انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

سیمینار تنازعہ کشمیر پر پاکستان کے ثابت قدم موقف کے اعادہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پاکستان نے کشمیری عوام کی انصاف اور حق خود ارادیت کی جائز جدوجہد کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پرامن اور منصفانہ حل کے حصول تک مسئلہ کشمیر کو تمام بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اٹھاتا رہے گا۔