پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے پہلی بین الاقوامی فیری سروس شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جلد پاکستان سے آنے والے مسافروں کے لیے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک تک سمندری راستے سے سفر ممکن ہو جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت سمندری امور نے بتایا ہے کہ فیری آپریشنز کے لیے لائسنس جاری کر دیا گیا ہے، جو پاکستان کے سمندری شعبے میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
وزارت سمندری امور نے وضاحت کی ہے کہ وزارت دفاع، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پورٹس اینڈ شپنگ کے نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے پاکستان کی پہلی فیری سروس کے لیے اصولی طور پر لائسنس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ قدم سمندری سفر، سیاحت اور خطے کے باہمی رابطے کے فروغ کے لیے ایک نیا باب کھولنے کا باعث بنے گا۔
اگرچہ وزارت نے فیری سروس چلانے والی کمپنی کا نام رسمی طور پر ظاہر نہیں کیا، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لائسنس برطانیہ میں قائم کمپنی “سی فیری” کو دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ سروس متحدہ عرب امارات، جی سی سی ممالک، ایران اور دیگر خطوں میں سفر کرنے والوں کو زیادہ معقول اور سستا سفری ذریعہ فراہم کرے گی۔ اس کا آغاز متوقع ہے کہ خطے کے نئے یونیفائیڈ ٹورسٹ ویزہ پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ ہو گا، جس سے خاص طور پر پاکستانی سیاح مستفید ہوں گے جو فیری کے ذریعے مختلف مقامات کا سفر کر سکیں گے۔
مزید یہ کہ یہ فیری سروس مذہبی زائرین کے لیے بھی سہولت مہیا کرے گی، جو عمرہ اور حج کی ادائیگی کے لیے پاکستان سے سعودی عرب جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال سات لاکھ سے دس لاکھ پاکستانی ایران اور عراق کے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اگر ابتدائی تین سالوں میں ان میں سے صرف بیس فیصد فیری سروس کا استعمال کریں تو سالانہ 140 ہزار سے 200 ہزار مسافر اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے، جو معاشی طور پر ایک اہم صلاحیت ہے۔ فیری سروس کے ابتدائی مراحل میں کراچی اور گوادر کے درمیان چلائی جائے گی۔
یہ منصوبہ صرف مسافروں کی سہولت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بحری تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اماراتی کمپنیوں کو پاکستان کے میری ٹائم انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ اے ڈی پورٹس گروپ نے اسلام آباد میں اپنا پہلا نمائندہ دفتر قائم کیا ہے، جو عالمی توسیع کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دفتر جنوبی اور وسطی ایشیاء میں تجارت اور لاجسٹکس کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی منصوبوں میں تعاون کا مرکز ہوگا۔
یہ منصوبہ پاکستان کے سمندری شعبے کو نئی ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا اور خلیجی ممالک سے روابط میں آسانی فراہم کرے گا، جس سے ملک کی معیشت اور سیاحت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔























