
ایئر کراچی اور چائنیز جیٹ C919 – سستا سفر یا بڑا خطرہ؟
ایئر کراچی اور چائنیز جیٹ C919 – سستا سفر یا بڑا خطرہ؟
Air Karachi and Chinese Jet C919 — Affordable Travel or a Major Risk?
=======================
“ایر کراچی اور چائنیز جیٹ C919 — سستا سفر یا بڑا خطرہ؟”
خبر:
جب پی آئی اے شدید بحران کا شکار ہے، تو ایک نئی ایئر لائن “ایر کراچی” منظر عام پر آئی ہے۔ چینی طیارے، سستے ٹکٹس، اور بڑی پشت پناہی کے ساتھ یہ ایئر لائن پاکستانی ہوائی سفر کے لیے نئی امید لے کر آئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ایک نئی کامیابی ہوگی یا پھر ایک اور خواب جو ہوا میں تحلیل ہو جائے گا؟
ایر کراچی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) سے باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ اس ایئر لائن کے پیچھے 100 سے زائد طاقتور سرمایہ کاروں کا گروپ موجود ہے، جن میں عاطف اکرم شیخ، عاقل کریم ڈاڈی، عارف حبیب، اور ایس ایم تنویر جیسے نام شامل ہیں۔ کمپنی نے ابتدائی سرمایہ کاری کے طور پر 5 ارب روپے جمع کیے ہیں، جو اس کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایر کراچی چین کے نئے طیارے COMAC C919 کو اپنی فلٹ میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ یہ طیارہ ابھی تک یورپ اور امریکہ میں پرواز کے لیے منظور نہیں ہوا۔ کیا پاکستانی مسافر اس طیارے کے لیے پہلی بڑی آزمائش بننے جا رہے ہیں؟
چین میں اس طیارے نے اب تک کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں کیا، لیکن کیا یہ کافی ہے؟ کیا پاکستانی مسافر اس پر اعتماد کریں گے؟ ایر کراچی کا دعویٰ ہے کہ C919 کی کم آپریٹنگ لاگت کی وجہ سے ٹکٹ کی قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔ مگر کیا یہ وعدہ پورا ہوگا یا پھر یہ بھی پی آئی اے جیسے وعدوں کی طرح دھرا کا دھرا رہ جائے گا؟
ایر کراچی کا منصوبہ ہے کہ وہ پہلے اندرون ملک پروازیں شروع کرے اور پھر ایک سال کے اندر مشرق وسطیٰ کے لیے بین الاقوامی فلائٹس کا آغاز کرے۔ اگر یہ کمپنی اپنے وعدوں پر پورا اترتی ہے، تو یہ نہ صرف پی آئی اے بلکہ دیگر ایشیائی ایئر لائنز کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔
سوال یہ ہے: کیا آپ چینی طیارے C919 پر سفر کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یا پھر آپ کو ابھی بھی تشویش ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
========================

آج موت کا فرشتہ مجھے بتا کے گیا ہے کہ عنقریب تمہاری باری آنے والی ہے، تیاری کر لو۔!!!!
یقین نہیں آتا ناں؟
آج وہ ہماری ڈاکٹر برادری میں سے ایک بہت بڑی شخصیت کو اینجیو پلاسٹی کے دوران ہی لے گیا۔ ساتھ ہی مجھے بتا گیا کہ جب تیرا وقت آئے گا تو ڈاکٹروں پہ بھروسا نہ کرنا۔ اس زعم میں نہ رہنا کہ میں تو خود ڈاکٹر ہوں۔!!!
لیکن اسے کیا پتہ کہ میں کتنا ڈھیٹ ہوں۔ شیطان روز مجھے تسلی دیتا ہے کہ ابھی تو جوانی کے دن ہیں۔ کم از کم بھی تیس، چالیس سال تو اور نکال ہی جاؤ گے۔ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کرو۔ ابھی توانائ ہے، انکے لیئے خوب جمع کر لو۔ بعد میں اللہ اللہ کر لینا اور توبہ بھی۔ تمہیں تو پتہ ہے وہ کتنا غفور الرحیم ہے۔ اور میں روز خوشی سے سر ہلا کے اسکی بات مان لیتا ہوں۔
یہ موت کا فرشتہ تو ہے ہی ڈرانے اور مایوسی پھہلانے کے لیئے۔ روز میرے آس پاس سے کسی نہ کسی کو لے جاتا ہے اور مجھے ڈرا جاتا ہے کہ تیرا وقت بھی قریب ہے۔ تیس سال سے اوپر ہو گئے۔ ابھی تک تو آیا نہیں وقت۔ ہونہہ۔!!!
اب تو میں نے اسے لفٹ کروانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ جب آئے گا، دیکھا جائے گا۔!!!
ابھی تو مجھے نیا گھر بنانا ہے۔ گاڑی بھی پرانی ہو گئ ہے۔ جاب میں کیا رکھا ہے، اپنے کلینک کیلیئے پیسے جوڑنے ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور پھر شادی بیاہ۔ اف توبہ اس مہنگائ میں اتنی ٹینشنز ہیں، اوپر سے یہ موت سے ڈراتا رہتا ہے۔!!!
لیکن ایک بات پوری کوشش کر کے بھی ذہن سے نہیں نکلتی:
اگر میں نے یہ سب کچھ حاصل کر بھی لیا اور اسی دن وہ مجھے لینے آ گیا، تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!























