عبد الحکیم ریلوے اسٹیشن / عبد الحکیم کی تاریخ- عوام کا مطالبہ ہے کہ لاہور کے لیے کم از کم ایک ٹرین فراہم کی جائے۔


عبد الحکیم ریلوے اسٹیشن / عبد الحکیم کی تاریخ
عوام کا مطالبہ ہے کہ لاہور کے لیے کم از کم ایک ٹرین فراہم کی جائے۔

عبد الحکیم ریلوے اسٹیشن / عبد الحکیم کی تاریخ
ABDUL HAKIM RAILWAY STATION / HISTORY OF SAINT ABDUL HAKIM
================

عبدالحکیم ریلوے اسٹیشن، جو وذیرآباد برانچ لائن پر واقع ہے، نہ صرف ایک خوبصورت اسٹیشن ہے بلکہ اس کا نام ایک بزرگ حضرت عبدالحکیم کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ اسٹیشن 1900 میں برطانوی دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اس وقت یہاں صرف تین ٹرینوں کا اسٹاپ ہے، لیکن مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس روٹ پر مزید ٹرینیں بحال کی جائیں تاکہ مسافروں کو سہولت ہو۔

حضرت عبدالحکیم مغلیہ دور کے ایک بزرگ تھے، جو 1664 میں پیدا ہوئے اور 1734 میں وفات پائی۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے دہلی میں ایک مسجد کے قبلے کو درست کرنے میں مدد کی تھی۔ ان کی روحانی عظمت کی وجہ سے یہ شہر ان کے نام سے مشہور ہوا اور بعد میں ریلوے اسٹیشن کا نام بھی انہی کے نام پر رکھا گیا۔

اسٹیشن کی عمارت اپنے تاریخی اور فن تعمیر کے لحاظ سے منفرد ہے، لیکن کچھ سہولیات جیسے پانی کے ہینڈ پمپ اور ٹوائلٹس خراب حالت میں ہیں۔ مقامی لوگوں نے اسٹیشن کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسٹیشن کے قریب حضرت عبدالحکیم کا مزار بھی ہے، جہاں زائرین کی آمد جاری رہتی ہے۔

=================

🔴کراچی میں رقم واپس نہ کرنے پر اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے باپ اور بھائی کو قتل، بھابھی کو زخمی کردیا

کراچی کے علاقے جمشید کوارٹر میں ناحلف بیٹے نے فائرنگ کر کے باپ اور بھائی کو قتل جبکہ بھابھی کو زخمی کردیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق جمشید کوارٹر کے علاقے حیدرآباد کالونی میں قائم اچار والی گلی کے ایک گھر میں سفاک بیٹے نے والد کی سلائنسر لگی پستول سے پہلے بھائی کو قتل اور بھابھی کو زخمی کیا اور پھر نماز سے واپس آنے والے والد کو گیٹ کھولتے ہی گولی مار دی۔

فائرنگ کی اطلاع ملنے پر علاقہ مکین موقع پر پہنچے اور انہوں نے ملزم کو گھیرے میں لیا، جس کے بعد پولیس پہنچی تو ملزم نے بھاگنے کی کوشش کی جس پر اہلکاروں نے پیچھا کیا تو ملزم نے اُن پر بھی فائرنگ کی تاہم خوش قسمتی سے کوئی زخمی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے ملزم کو اسلحے سمیت حراست میں لیا جس کی تصدیق ایس پی جمشید ٹاؤن کی نے کی اور بتیا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 65 سالہ نعمت اور اُن کا 40 سالہ بیٹا عمید جاں بحق ہوا جبکہ چالیس سالہ خاتون زوجہ عمید شدید زخمی ہیں، مرنے والے باپ بیٹے جبکہ خاتون ملزم کی بھابھی ہے۔

پولیس نے لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید منتقل کیا۔

پولیس کے مطابق مقتول نعمت اللہ نیشنل کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر تھے، واقعہ کے وقت مقتول نعمت اللہ نمازادا کرکے گھر کی دہلیز پر پہنچے ہی تھے کہ بیٹے نے گیٹ کھولتے ہی فائرنگ کی، ملزم نے گھر کے باہر باپ پر فائرنگ کرکے قتل کیا اور لاش کو گھر کے اندر گھسیٹ کرلایا جبکہ اُس سے قبل گھرمیں بھائی عمید اور بھابھی پر بھی فائرنگ کرچکا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم رکشے میں بیٹھ کر فرار ہورہا تھا جس کی کوشش کو ناکام بنایا گیا، وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا خول ملا جبکہ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ملزم مقتول کا بڑا بیٹا اور سافٹ ویئر انجینئر ہے۔

ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو ابتدائی بیان میں جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ پستول میں سلینسر لگا کر والد، بھائی اور بھابھی پر فائرنگ کی، پستول والد کی ملکیت اور اُن کے کمرے کی دراز میں موجود تھا اور مجھے والد کے پستول ، جگہ کا علم تھا۔

ملزم نے کہا کہ میرے 2 بچے نیوی ملیرکینٹ میں رہائش پذیر ہیں، کچھ سال قبل دبئی میں ملازم تھا اور ہر ماہ گھر پر رقم بھیجتا تھا، اس دوران والد کا بائی پاس کروانے کیلیے لاکھوں روپے بھیجے جبکہ والدہ کورونا میں مبتلا ہوئیں تو اُن کے علاج کیلئے بھی پیسے بھیجے، تاہم وہ انتقال کرگئیں۔

پولیس کے مطابق ملزم نے بیان میں بتایا کہ دبئی سے واپس آکر بھائی اور بھابھی نے رقم واپس نہیں کی، کورونا کی وجہ سے بیرون ملک سے واپس آنے کے بعد معاشی طور پر پریشان ہوا تو والد اور بھائی سے متعدد بار رقم کا مطالبہ کیا جس پر انہوں نے اور بھابھی نے جھگڑا کیا۔

ملزم کے مطابق اُس نے معاشی طور پر شدید تنگ ہونے کے بعد انتہائی قدم اٹھایا جبکہ اُس نے بھابھی پر جادو کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’میری بھابھی نےمجھ پر جادو بھی کرایا تھا، جب بھی میں بیرون ملک دوبارہ جانے کی کوشش کرتا تھا توسینے کی تکلیف میں مبتلاہوجاتا تھا۔

ملزم نے کہا کہ آج کے اس اقدام کے حوالے سے کسی کو آگاہ نہیں کیا تھا اور پستول میں استعمال کیا گیا سلینسر بھی والد کے گھر میں موجود تھا۔