
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، ایک لاکھ 43 ہزار کی حد عبور
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کے باعث کاروباری ہفتے کے دوسرے روز نئی تاریخ رقم ہوگئی۔ 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 43 ہزار کی حد عبور کرلی۔
بازار حصص میں کاروبار کے دوران زبردست تیزی دیکھی گئی، کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس میں 984 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس ایک لاکھ 43 ہزار 37 پوائنٹس کی بلندی پر بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی بار ایک لاکھ 42 ہزار کا سنگ میل عبور
کاروبار کے دوران 100 انڈیکس ایک لاکھ 43 ہزار 281 کی بلند ترین سطح پر بھی پہنچا۔
اسٹاک مارکیٹ میں آج 54 کروڑ کے شیئرز کا کاروبار ہوا جس کی مالیت 36 ارب رہی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 42 ہزار 52 پوائنٹس کی بلندی پر بند ہوا تھا۔
=================
کراچی (5 اگست)
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گورنر ہاؤس میں “معرکۂ حق – جشنِ آزادی” کے تحت منعقدہ عالمی مشاعرے میں شریک
* مشاعرہ میں چیرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، قائد حزب اختلاف علی خورشیدی و دیگر بھی موجود
* مشاعرے میں پروفیسر سحر انصاری، عباس تابش (لاہور)، جاوید صبا، فاضل جمیلی، خالد عرفان سمیت ملک و بیرونِ ملک کے نامور شعراء کی شرکت
* نظامت کے فرائض فیصل سبزواری، وجاہی ثانی اور آغا شیرازی نے انجام دیے
* بزرگ، نوجوان اور بچوں کی بڑی تعداد گورنر ہاؤس میں موجود، مشاعرہ بھرپور انداز میں سنا اور سراہا گیا
=================
خبرنامہ نمبر2025 /5370
چمن 05اگست:-ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر چمن میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا تقریب میں سے اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اے سی چمن چمن امتیاز علی بلوچ اے سی چمن سیٹی عزیز اللہ کاکڑ ڈی پی او سردار شیر یار خان آرمی ونگ 11 پنجاب کرنل بہزاد ایف سی ونگ کمانڈر کرنل عامر خٹک دیگر ضلعی انتظامیہ کے آفیسرز علماء کرام سیاسی و قبائلی مشران و دیگر معتبرین اور عوام شریک تھے ڈی سی چمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کو ایک مقبوضہ علاقہ بنا دیا اور بھارت نے کشمیر کی آزادی کو سلب کرتے ہوئے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا اور اسطرح اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مخالف کرتے ہوئے کشمیری عوام کی حق خودارادیت کو ختم کر دیا انہوں نے کہا کہ 75 سال سے کشمیریوں پر بھارت کی جانب سے ہونیوالے مظالم پر اقوام عالم کی خاموشی معنی خیز ہے اور ہم بھارتی مظالم کیخلاف کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہم اقوام متحدہ اور دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اور خود مختار ممالک سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت کو مجبور کریں کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و جبر بربریت اور وحشت کا سلسلہ بند کرائیں انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے تقریب سے دیگر اعلی عہدیداران نے بھی خطاب کیا آخر میں کشمیری شہداء کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی اور کشمیر کی آزادی کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔
==================
کوئٹہ 05اگست :۔پاکستان پیپلزپارٹی کےایم این اے نوابزادہ میرجمال خان رئیسانی نے کہا ہیکہ یوم استحصال کشمیربھرپور انداز میں مناکر بلوچستان کے عوام نے واضح پیغام دیا ہے کشمیریوں کےحق خودارادیت کی ہرسطح پرحمایت کریں گے،وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی قیادت میں بلوچستان کے باشعورعوام نے تاریخ سازریلیوں کے ذریعے اپناعزم دہرایا ہے کہ بھارت کے غیرآئینی اورغیرقانونی ہتکھنڈوں کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ کشمیریوں پر ہونیوالےظلم وستم اور ہندوستانی مکرو چہرہ دنیا کے سامنے لانے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ان خیالات کا اظہار نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے سوشل میڈیا ایپ ٹیوٹر پر جاری کردہ بیان میں کیا- نوابزادہ جمال خان رئیسانی نےکہاکہ کشمیر پاکستان کا شہہ رگ ہے پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہے کشمیر ہندوستان کا نہ حصہ تھا نہ ہے اور نہ رہیگاپوری قوم متحدہوکربلوچستان اورکشمیرمیں بھارت کوشکست دےگی رکن قومی اسمبلی نے کشمیرمیں آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی کو مودی کاجابرانہ اقدام قراردیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی کشمیرمیں مودی کےمظالم کسی سےڈھکےچھپےنہیں ہیں مودی حکومت کشمیر اور بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہےپوری دنیاجانتی ہے کہ بلوچستان کی بدامنی میں بھارت کاہاتھ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5367/2025
کوئٹہ 05اگست :۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ اسٹریٹجک منصوبے مستقبل کے لیے اہم اور دور رس نتائج کے حامل منصوبے ہیں ان منصوبوں کا مقصد نہ صرف ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے بلکہ طویل مدتی استحکام کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے صوبے کی مجموعی ترقی اور عوام کی معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار ٹریکنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کے نیٹ ورکس، سولر سسٹم، 164 بی ایچ یوز کی فعالی، 1200 سکولز کھولنے (جن میں 555 سکولز تیار ہیں) ، 8 شہروں کے لیے سیف سی پروجیکٹ، میٹ پیکیجنگ پلانٹ، فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل مارکیٹس کا قیام، 3000 سکولز میں اضافی کمروں کی تعمیر، میونسپل سروسز کو بہتر کرنے، پینے کی صاف پانی کی فراہمی اور شہری ترقی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام افسران اپنی اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہیں تاکہ عوامی مسائل کو فوری حل کیا جا سکے۔ آفیسران کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی زیر غور لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ ان سے عوام کو جلد از جلد فائدہ پہنچ سکے۔ عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو حکومت کی جانب سے بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیکرٹریز فائل ٹریکنگ سسٹم اور پاکستان سٹیزن پورٹل پر عوام کی جانب سے درج شکایات کو فوری طور پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں اور جو کیسز پینڈنگ یا اوور ڈیو ہیں ان کو بھی جلد ازجلد حل کریں۔ اجلاس میں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کمبر دشتی، چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات سمیت تمام صوبائی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5368/2025
کوئٹہ 05اگست:۔سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی میں کشمیر (یوم استحصال) کی مناسبت سے ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے کی ریلی میں رجسٹرار ڈاکٹر زینب اکرم ? ڈائریکٹر اوریک ڈاکٹر راحیلہ منظور وفیکلٹی ممبران لیکچرارز اور ایڈمن اسٹاف شامل تھے ریلی یونیورسٹی کے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی شہداءچوک پر اختتام پذیر ہوئی ریلی سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے تاریخی پس منظراور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا انہوں نے کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ پر روشنی ڈالی کہ کیسے کشمیر کی آزاد رریاست کو محکوم بنایا گیا عصر حاضر کے تناظرمیں انہوں نے بتایاکہ غیر کشمیری باشندوں کوکشمیر میں آباد کرنے اور شہری حقوق دینے کے لئے نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں مزید یہ کہ کشمیریوں کو مسلمانوں کی حمایت حاصل ہے اور آزادی کے حصول میں پاکستانی ان کے ساتھ ہیں انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کشمیر جو کبھی جنت نظیر کہلاتا تھا آج ظلم و ستم کی ایک خاموش گواہی بن چکا ہے بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کے عوام پر کئے جانے والے مظالم نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی داستان رقم کی ہے مزید براں پانچ اگست 2019ءکو آرٹیکل 370کا خاتمہ کشمیریوں کی شناخت پر ایک وار تھا اس اقدام نے نہ صرف کشمیریوں کی خود مختیاری چھین لی بلکہ ان کی زمینوں اور روزگار پر بھی خطرہ منڈلانے لگا اس استحصال کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد ان کا حاصلہ اور ان کی مزاحمت ہمیں یادد دلاتی ہے ۔کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور ہو سچائی کی روشنی کبھی دبائی نہیں جاسکتی ہمیں چاہیے کہ ہم بطور انسان کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی آواز بنیں اور عالمی برادری پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرے انہوں نے اس غم کا اظہار کرتے کہ بدقسمتی سے عالمی طاقتیں تجارتی مفادات کے تحت اس ظلم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں مگر بطور پاکستانی ہمیں ہر پلیٹ فارم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرنی چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5369/2025
جھل مگسی 05اگست:۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّہ کی قیادت میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے سرکٹ ہاوس گنداواہ میں سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار و ریلی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) عبدالغفور جمالی، اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ عبدالمجید محمد حسنی، ایس پی جھل مگسی سبحان علی مگسی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جھل مگسی عبدالرسول کھوسہ، ایکسیئن بلڈنگز ظفر اقبال ابڑو، ایس ڈی او ایریگیشن فرخ شہزاد کھوکھر۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک ڈاکٹر فرحت اللہ حبیب ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھل مگسی ڈاکٹر علی خان مگسی، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی گنداواہ ذوالفقار علی لاشاری، ایم سی چیئرمین مشتاق ترین، لیویز فورس جھل مگسی کے آفیسران و اہلکار، سول سوسائٹی ، ہندو کمیونٹی، گنداواہ کے صحافی حضرات، اساتذہ کرام اور طلباءکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاذ تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اسکولوں کے طلباءنے یوم استحصال کشمیر و بھارتی بربریت پر تقاریر و نغمے پیش کئے آخر میں ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّہ نے نہایت ہی مفصل و مدلل انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست 2019 کے بعد جموں کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے بھارت کا یہ رویہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بھارت بین الاقوامی اداروں کو کشمیر میں جانے کی اجازت دے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے کھرے ہو کر سامنے آئیں کشمیریوں کے حقوق ختم کرنا بھارت کی خام خیالی ہے بھارت کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کا یہ ڈھونگ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد فوج بھارتی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے چھ سال قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے کشمیریوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر بھارت ایوان میں کشمیری عوام کے حقوق پر قدغن ڈالی گئی انھوں نے کہا کہ آج پاکستانی قوم اپنے مظلوم نہتے بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یوم استحصال منا رہی ہے اس دن کو منانے کا مقصد پوری دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کبھی بھی اپنے بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گا آخر میں ریلی بھی نکالی گئی طلباءو دیگر شرکاء نے پلے کارڈز و بینرز اٹھا رکھے تھے شرکاءکی جانب سے کشمیر کی خودارادیت کے حق میں نعرے لگائے جارہے تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 05اگست :۔کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف قوال ماجد صابری قوال اینڈ ہم نوا کی جانب سے قلات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد بلوچستان حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی، فوری علاج معالجے، مالی معاونت اور اخلاقی سپورٹ پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ان کی ٹیم اور حکومت بلوچستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں صابری قوال فیملی نے اس سانحے کو ناقابلِ تلافی اور دل سوز نقصان قرار دیا، جس میں قوال گروپ کے تین ارکان شہید اور دیگر زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کٹھن وقت میں بلوچستان حکومت، بالخصوص وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے جس ہمدردی، تعاون اور فوری اقدامات کا مظاہرہ کیا گیا، وہ انتہائی قابلِ تحسین اور متاثر کن ہے صابری فیملی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم نے جس انداز سے ہماری دلجوئی کی، وہ زخموں پر مرہم کا کام تھا۔ بلوچستان حکومت نے جس فوری ردعمل، طبی امداد اور متاثرہ خاندانوں کی دیکھ بھال کا اہتمام کیا، وہ وفاق اور دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال ہے صابری خاندان اور قوال برادری کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دلی دعاو¿ں اور نیک تمناو¿ں سے نوازا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ صوبے میں فن، ثقافت اور فنکاروں کے تحفظ کے لیے اسی جذبے سے اقدامات جاری رہیں گے واقعہ کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر مقامی انتظامیہ، صحت کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محکمے فوری طور پر متحرک ہوئے، اور متاثرین کو نہ صرف طبی سہولیات فراہم کی گئیں بلکہ شہداءکے لواحقین سے براہِ راست رابطہ کر کے ہرممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی۔























