رب کا جہاں
نوید نقوی
قارئین رب کا جہاں ایک ایسا سلسلہ ہے جس کو پڑھ کر آپ کا دل امید کی روشنی اور علم کی طاقت سے منور ہو جائے گا۔ آپ کو یاد ہوگا انہی صفحات پر رب کا جہاں کی کئی سیریز لکھی تھیں اور الحمدللہ زمانہ نیوز کے روح رواں صابر بخاری بھائی نے خوب حوصلہ افزائی فرمائی۔ اب بھی نجی مصروفیات کی وجہ سے کافی دن سے غیر حاضر تھا تو انہی کے حکم پر نئے جذبے اور ولولے سے دوبارہ رب کا جہاں اور کرنٹ افیئرز پر مبنی ون پوائنٹ کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔ افریقہ بچپن سے ہی میرے خوابوں کی سرزمین رہی ہے۔ ٹارزن کی کہانیوں سے لے کر آدم خور قبیلوں کے سفید فام لوگوں کے ہتھے چڑھنے تک، کئی کہانیاں آج بھی دل و دماغ میں موجود ہیں۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو اس براعظم کو ضرور Explore کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ، افریقہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا براعظم ہے۔ یہ خشکی کا 22 فیصد اور کل سطح زمین کا چھ فیصد بنتا ہے۔30,365,000 مربع کلومیٹر رقبے کا حامل ہے جبکہ کل آبادی ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد ہے۔ 54 ممالک اس براعظم میں آزاد حیثیت سے موجود ہیں۔
دنیا کی 16 فیصد آبادی اس میں رہتی ہے۔ یہاں کی جنگلی حیات دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ان میں سے ایک عظیم ہجرت کے مناظر ہیں۔ افریقہ پر لکھنے بیٹھوں تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن آج عظیم ہجرت اور عظیم چراگاہ جسے سیرنگیٹی کہا جاتا ہے، اس پر لکھوں گا۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ براعظم افریقہ وسیع وعریض جنگلات، بڑے بڑے میدانوں، دریاؤں، صحراؤں اور پہاڑوں کی سرزمین ہے۔ افریقی ملک تنزانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا سر سبز میدان سیرینگیٹی Serengeti پایا جاتاہے۔ جنگلی گائے، بھینسیں، ہرن اور زیبرا لاکھوں کی تعداد میں یہاں گھاس پھوس چرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ سے زائد گاؤ، ہرن، ہزاروں بھینسیں ،50000 سے زائد زیبرے اور دیگر ہزاروں جنگلی جانور ایک ساتھ ہجرت کرتے ہیں۔
ان کی ہجرت کا مقصد تازہ گھاس اور پانی کا حصول ہے اور یہ ہمیشہ بارشوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ یعنی جہاں جہاں بارشیں برستی ہیں یہ جانور لاکھوں کی تعداد میں اس مقام کا رخ کرتے ہیں۔ ہم سب کو یہ یہ تو سمجھ آگئی ہے کہ ہجرت کس لیے کی جاتی ہے، مگر آپ یہ جان کر حیران اور پریشان ہو جائیں گے کہ یہ ہجرت کتنی پر خطر اور صدموں سے بھرپور ہے۔ ہزاروں مائیں اپنے بچوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جاتی ہیں اور ہزاروں ننھے جانوروں کو اپنے ماں باپ کی جدائی کا دکھ سہنا پڑتا ہے۔

تنزانیہ سے لے کر کینیا تک ہر سال یہ جانور بھاگتے، رکتے اور چلتے 500 سے زائد کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں اور اس سفر کے دوران یہ مختلف جنگلوں میدانوں اور دریاؤں سے گزرتے ہیں۔ تعداد میں لاکھوں ہونے کی وجہ سے شکاری جانوروں کے لیے بھی یہ نادر موقع ہوتا ہے جو ہر سال اس ہجرت کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ اگر بات کی جائے شیروں کی تو ان کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے جس میں شیرنیاں گھات لگا کر آنے والے مہمانوں کا استقبال کرتی ہیں اور جی بھر کر مہمانوں کے گوشت کے مزے اڑاتی ہیں۔
انگریزی میں ایک فقرہ بڑا مشہور ہے، (safety in numbers) مطلب جتنی تعداد زیادہ ہوگی بچنے کا موقع بھی زیادہ ہوگا۔ یہ جانور برسات کے مہینے میں کسی ایسے میدان میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں وافر چارہ اور پانی دستیاب ہوتا ہے۔ موقعے کی نزاکت کے تحت یہ جگہ ملاپ کے لیے بہترین ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ لاکھوں مادہ گاؤ ہرن ایک ساتھ ملاپ کرتی ہیں اور عین ایک ساتھ بچے جنتی ہیں۔

ہجرت کرتے، بچتے بچاتے یہ جانور تنزانیہ اور کینیا کی سرحد پر بہتے دریا دریائے مارا (Mara) پر پہنچتے ہیں جس کا بہاؤ کافی تیز ہوتا ہے اور کنارہ کافی ڈھلوان نما ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ سیاح اس دریا کو خونی دریا بھی کہتے ہیں کیونکہ اس دریا میں سینکڑوں دریائے نیل کے مگرمچھ ( Nile crocodile) پہلے سے گھات لگاہے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی لاکھوں جانور یہاں پہنچتے ہیں،
دریا کے دھانے کے نزدیک پہنچ کر پہلا جانور ہمت کر کے پانی میں چھلانگ لگاتا ہے تو پھر سارا ریوڑ اس کی دیکھا دیکھی پانی میں کود پڑتا ہے اتنی تعداد میں جانوروں کے کودنے سے جانور ایک دوسرے کے اوپر گرنے سے زخمی ہو جاتے ہیں اور جو تیرتے ہیں ان میں سے کچھ مگر مچھوں کا شکار اور جو دریا عبور کرتے ہیں ان کے لیے آگے ( surprise) شیر موجود ہوتے ہیں۔ ان سب خطروں کے برعکس اس قدر زیادہ تعداد میں یہ جانور کچھ ہی جانیں گنوا کر اپنی منزل کینیا کے میدانوں میں پہنچتے ہیں۔
مارا دریا میں ان کی لاشیں پھیل جاتی ہیں جن کو مگر مچھ کھاتے ہیں مگر ہزاروں کی تعداد کو ٹھکانے بھی لگاتے ہیں تاکہ پھر سارا سال بھوک کا سامنا نہ کرنا پڑے، قدرت کے چمار ( گدھ)، ذندہ بچنے والے جانور میدان میں اکٹھے ہوتے ہیں اور جو مادائیں حمل سے ہوتی ہیں وہ لاکھوں کی تعداد میں ایک ہفتے کے اندر بچے پیدا کر دیتی ہیں اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کم سے کم بچے شکاریوں کے ہاتھ لگتے ہیں اور ان کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے۔
یہ جانور کچھ مہینے اسی میدان میں رہتے ہیں جب تک بچے مکمل طور پر خود کفیل نہ ہو جائیں، پھر دوبارہ سے ان کی ہجرت تنزانیہ سیرینگیٹی کی طرف ہوتی ہے جہاں سے ان جانوروں نے آغاز لیا تھا۔
یہ عظیم ہجرت ہزاروں سالوں سے ایسے ہی جاری ہے اس میں کوئی فرق نہیں آیا، اپنی نسل کو بڑھانے اور گوشت خور جانوروں کو خوراک کی فراہمی کے لیے اللہ نے یہ قانون بنایا ہے۔ آج بھی یہ ہجرت جاری ہے اور شکاری اور شکار بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

نوید نقوی























