وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آن لائن کاروبار کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک نیا اور سخت نظام متعارف کرا دیا ہے۔ ای کامرس ریٹیلرز اب نہ صرف رجسٹریشن کے پابند ہوں گے بلکہ ان کے تمام ڈیجیٹل لین دین پر ٹیکس کی کٹوتی بھی کی جائے گی۔
انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آر نے ای کامرس کے لیے دو نئے سرکلر جاری کیے ہیں: انکم ٹیکس سرکلر نمبر 01 اور سیلز ٹیکس سرکلر نمبر 02۔ ان کے ذریعے ای کامرس پلیٹ فارمز اور بیچنے والوں کو قومی ٹیکس نمبر (NTN) فراہم کرنے کا عمل آسان بنایا گیا ہے، اور ایک مؤثر ودہولڈنگ ٹیکس سسٹم کا نفاذ کیا گیا ہے۔
اب ہر آن لائن آرڈر — خواہ وہ ویب سائٹ کے ذریعے ہو یا ایپ کے ذریعے — ٹیکس کے دائرہ کار میں ہوگا۔
سیکشن 6A کے تحت، تمام ای کامرس لین دین پر ٹیکس لاگو ہوگا، اور ادائیگی کرنے والے ادارے (جیسے بینک، ڈیجیٹل گیٹ ویز، ایکسچینج کمپنیاں) 1٪ ٹیکس منہا کریں گے۔
کیش آن ڈیلیوری کی صورت میں، کورئیر کمپنیاں بیچنے والے کو ادائیگی منتقل کرنے سے پہلے 2٪ ٹیکس کاٹیں گی۔
ادائیگی کے ثالثی ادارے اور کورئیر سروسز ہر سیلر کے نام پر کٹوتی شدہ ٹیکس ماہانہ قومی خزانے میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
ان اداروں کو ساتھ ہی ود ہولڈنگ اسٹیٹمنٹس بھی ایف بی آر میں جمع کرانی ہوں گی۔
تمام ای کامرس فروخت کنندگان کے لیے انکم ٹیکس رجسٹریشن اب قانونی طور پر لازمی قرار دی گئی ہے۔
آن لائن مارکیٹ پلیسز (جیسے دراز، علی بابا، وغیرہ) اور کورئیر سروسز کو غیر رجسٹرڈ سیلرز کو سروس دینے سے روک دیا گیا ہے۔
اگر کوئی مارکیٹ پلیس یا کورئیر کمپنی ٹیکس کٹوتی یا رجسٹریشن کے قواعد پر عمل نہ کرے تو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے کورئیرز کو ودہولڈنگ ایجنٹس مقرر کیا ہے۔
کیش آن ڈیلیوری کی صورت میں سیلز ٹیکس بھی کورئیرز جمع کریں گے۔
کٹیج انڈسٹری اور نان ٹائر-1 ریٹیلرز کے لیے اس ٹیکس کو حتمی تصور کیا جائے گا، اور ان پر ان پٹ ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔























