جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے کووڈ-19 کے علاج کے لیے منہ کے ذریعے لی جانے والی ایک نئی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ دوا جنوبی کوریا کی مختلف جامعات کے ماہرین نے تیار کی ہے، جسے CP-COV03 یا Xafty کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دوا کے کلینیکل ٹرائلز مکمل کر لیے گئے ہیں، جن کے نتائج نے اسے کورونا وائرس کے خلاف مؤثر قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دوا کے اگلے مرحلے کے تجربات بھی کامیاب ثابت ہوتے ہیں تو جنوبی کوریا کی فوڈ اینڈ ڈرگ سیفٹی اتھارٹی اس کے باقاعدہ استعمال کی منظوری دے سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ دوا اگلے سال کے اختتام تک مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتی ہے۔
یہ دوا ہنڈائی بایو سائنس نامی کورین بایوٹیکنالوجی کمپنی نے تیار کی ہے۔ اس کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دوا نے امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے شناخت کی گئی کووڈ-19 کی اہم علامات — جیسے کھانسی، گلے میں خراش، سردرد، متلی اور سردی لگنے — پر مثبت اثرات دکھائے ہیں۔
یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع کی گئی ہے تاکہ عالمی سائنسی برادری اس کا جائزہ لے سکے۔























